یمن مذاکرات ناکام، سعودی عرب کی بمباری شروع

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بدھ کو بھی حوثی اہداف کو کار بموں سے نشانہ بنایا گیا تھا اور ان دھماکوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی

سعودی جنگی جہازوں نے سنیچر کی صبح یمن کے شہر عدن میں حوثی جنگجوؤں پر فضائی بمباری کی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے یہ کارروائی جنیوا میں امن مذاکرات کی ناکامی کے چندگھنٹوں بعد کی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی فوجی ذرائع نے اس کارروائی کی تصدیق کی ہے اور یمنی حکومت کی حامی افواج کا کہنا ہے کہ عدن کے شمال، مشرق اور مغرب میں واقع کم از کم پندرہ مقامات پر بمباری کی گئی ہے اور اس کا مقصد حوثیوں کی فوجی طاقت کو نقصان پہنچانا ہے۔

یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثیوں کے زیرِ استعمال ایک مسجد کے قریب کار بم دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں دو افرارد کے ہلاک ہونے اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلات ہیں۔

اس سے پہلے بدھ کو بھی حوثی اہداف کو کار بموں سے نشانہ بنایاگیا تھا اور ان دھماکوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

دوسری جانب سرگرم حوثی کارکن حسین البخیتی نے صنعا سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے امن مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار اقوامِ متحدہ اور سعودی عرب کو قرار دیا ہے۔

’ہم نے کبھی ایسا نہیں سنا کہ پہلے آپ غیر مشروط جنگ بندی کا کہیں اور ساتھ ہی اس کے لیے اپنی شرائط کا اعلان بھی کر دیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے پیش کی گئی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’ جنگ بندی کے لیے حوثی اور ان کی حامی افواج کو شہروں سے پسپائی اختیار کرنی پڑے گی۔ ایسا نہیں ہو سکتا وہ اپنی شرائط پر جنگ بندی نہیں کر سکتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’تنازع کے پرامن حل کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی‘

یاد رہے کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں یمن کے تنازعے پر امن مذاکرات میں فریقین جنگ بندی کے معاہدے پر رضامند نہیں ہو سکے ہیں۔

یمن کے جلاوطن وزیر خارجہ ریاض یاسین نے حوثی باغیوں کو مذاکرات میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

یمن میں سعودی کارروائی کامیاب رہی؟

انھوں نے کہا کہ تنازع کے پرامن حل کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی تاہم مذاکرات کے آئندہ دور کے بارے میں کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے۔

یمن میں جاری تنازعے کی وجہ سے تقریباً دو کروڑ افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔

وزیر خارجہ ریاض یاسین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ:’ہم یہاں بڑی امید کے ساتھ آئے تھے اور ہم پرامید تھے کے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے والے مذاکرات میں یمن کے لیے کوئی پرامن حل نکل آئے گا تاہم بدقسمتی سے حوثیوں کے وفد نے ہماری توقعات کے برعکس ہمیں آگے نہیں بڑھنے دیا۔جتنی ہمیں امید تھی اتنی کامیابی نہیں مل سکی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ناکام ہو گئے ہیں۔‘

حوثی باغیوں کی جانب سے کوئی درعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل اولد شیخ احمد نے ان مذاکرات کا آغاز کیا تھا اور پانچ دن تک جاری رہنے والی بات چیت میں کئی بار توسیع کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف جاری جنگ میں اقوامِ متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق 2600 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں

اسماعیل اولد شیخ احمد کے مطابق’یقیناً فریقین جنگ بندی کے حوالے سے مسائل پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور ہم دونوں جانب سے تجاویز لیں گے تاکہ آنے والے دنوں میں دوبارہ مل بیٹھ کر جنگ بندی کے مستقل معاہدے تک پہنچ سکیں۔‘

مذاکرات میں یمن کی حکومت نے مطالبہ کے حوثی باغیوں کو قبضے میں لیے گئے علاقے سے پیچھے ہٹنا ہو گا جبکہ حوثی باغیوں کے وفد میں طے شدہ دس ارکان سے زائد کی شمولیت پر بھی احتجاج کیا جبکہ حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کےمعاہدے سے پہلے فضائی حملے بند ہونے چاہیں۔

مذاکرات کے آغاز سے پہلے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے زور دیا تھا کہ وہ مذاکرات میں کسی امن معاہدے تک پہنچیں اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے امن کے لیے سنجیدہ کوششوں کا آغاز کریں اور رمضان کی آمد کے پیشِ نظر کم ازکم دو ہفتوں کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کریں۔

بان کی مون نے خبردار کیا کہ یمن کے مسئلے کا پائیدار سیاسی حل نکالنے کے لیے تمام معاملات پر بات چیت کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف جاری جنگ میں اقوامِ متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق 2600 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ہلاک شدگان میں نصف تعداد عام شہریوں کی ہے جبکہ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونے والے یمنی باشندوں کی تعداد پانچ لاکھ بتائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں