جنگ زدہ علاقوں میں ثقافتی ورثے کی حفاظت کے لیے برطانیہ کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دولت اسلامیہ نے عراق میں نمرود کے ثقافتی آثار کو مسمار کیے جانے کی تصاویر جاری کی ہیں

برطانیہ جنگوں میں ثقافتی ورثے کو بچانے کے ایک اہم بین الاقوامی معاہدے کی بالآخر توثیق کرنے جا رہا ہے۔

سنہ 1954 کے ہیگ کنوینشن کو دوسری جنگ عظیم کے بعد بنایا گیا تھا تاہم اسے حکومت برطانیہ نے قانون کے طور پر منظور نہیں کیا تھا۔

برطانیہ کے وزیرِ ثقافت جان وہیٹنگڈیل نے کہا کہ دولت اسلامیہ کے ہاتھوں شام اور عراق میں ثقافتی ورثوں کی تباہی کے پیش نظر اب اس کی توثیق ضروری ہو گئی ہے۔

خیال رہے کہ برطانیہ دنیا کے اہم ممالک میں واحد ملک ہے جس نے اس ہیگ کنوینشن کی توثیق نہیں کی تھی۔

اس معاہدے کو 115 سے زیادہ ممالک کی منظوری حاصل ہے اور اس میں برطانیہ کے علاوہ اقوام متحدہ کے سکیورٹی کونسل کے تمام رکن ممالک شامل ہیں۔

اس کنوینشن کی توثیق کا مطلب ہے کہ یہ ممالک اور ان کی افواج ثقافتی خزانوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔ برطانیہ اس کنوینشن کے اولین دستخط کنندوں میں تھا لیکن اس نے اپنے یہاں کبھی اس کی توثیق نہیں کی۔

سنہ 1990 کی دہائی میں بالکن ممالک میں جنگ کے نتیجے میں اس معاہدے کی تجدید ہوئی تھی اور سنہ 2004 میں برطانیہ نے کہا تھا کہ وقت آنے پر وہ اس کی توثیق کرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برطانیہ کے وزیر ثقافت نے کہا کہ دولت اسلامیہ کے ہاتھوں شام اور عراق میں ثقافتی ورثوں کی تباہی کے پیش نظر اب ہیگ کنوینشن کی توثیق ضروری ہو گئی ہے

وزیر ثقافت وہیٹنگڈیل نے کہا کہ یہ کنوینشن ’پہلی فرصت میں‘ برطانیہ میں قانون بن جائے گا۔

انھوں نے کہا: ’ہر چند کہ ان جنگوں میں برطانیہ کی ترجیحات میں انسانی جان شامل رہے گی لیکن ہمیں اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں ثقافتی ورثے کی بربادی کو روکنے کے لیے ہم جو کچھ کر سکتے ہیں کرنا چاہیے۔

’کسی ملک کے ثقافتی ورثے کا نقصان اس کی شناخت کے لیے خطرہ ہے۔‘

اطلاعات کے مطابق ستمبر ہونے والی سربراہی کانفرنس کے دوران عراق، شام اور لیبیا میں خطرے سے دوچار یادگار عمارتوں کو بچانے اور اس کی بحالی کے لیے ایک فنڈ قائم کیا جائے گا تاکہ ماہرین آثار قدیمہ مستقبل میں متاثر عمارتوں کی بحالی کرسکیں۔

اس کنوینشن کی توثیق کیے جانے کی حمایت کرنے والے کمپینر پروفیسر پیٹ سٹون کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک شاندار خبر ہے جب تک کہ اس میں تاخیر نہیں کی جاتی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دولت اسلامیہ نے نمرود کے بعض عمارتوں کو دھماکے سے اڑانے کی تصاویر جاری کی تھی

ضلعی ثقافتی وزیر کرس برائنٹ کا کہنا ہے کہ لیبر پارٹی اس کی توثیق کے لیے پابند عہد ہے۔ اس سے قبل انھوں کہا تھا کہ ’میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آخر ابھی تک حکومتوں نے اس پر عمل کیوں نہیں کیا۔‘

برطانوی میوزیم کے ڈائریکٹر نیل میک کریگر ان لوگوں میں شامل ہیں جنھوں برطانوی حکومت پر اس کنوینشن کی توثیق کے لیے زور دیا تھا۔

دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں پر یہ الزام ہے کہ وہ شام کے ثقافتی ورثے کو فنڈ اکٹھا کرنے کے لیے فروخت کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اقوام متحدہ نے اس ملک کے فن پاروں کی تجارت پر پابندی لگا دی ہے۔

اس بات کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ جنگجو شام کے پیلمائرا میں موجود دو ہزار سال قدیم عہد روم کے باقیات کو تباہ نہ کردیں جبکہ عراق کے قدیمی شہر نمرود کو ان لوگوں نے نشانہ بنا رکھا ہے۔

اسی بارے میں