سیاہ فاموں کو غلام بنانا اب بھی ہمارے ڈی این اے میں ہے: اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ Pete Souza
Image caption ’نسلی امتیاز سے ہمیں اب تک چھٹکارا نہیں ملا‘

امریکی صدر براک اوباما نے ایک ریڈیو انٹرویو میں تسلیم کیا ہے کہ امریکی تاریخ پر سیاہ فاموں کو غلام بنانے کا سایہ چھایا ہوا ہے اور ’یہ اب بھی ہمارے ڈی این اے میں موجود ہے۔‘

صدر اوباما نے یہ بیان ساؤتھ کیرولائنا میں فائرنگ کے اس واقعے کے بعد دیا جس کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ یہ مبینہ طور پر نسلی امتیاز کا نتیجہ ہے۔

صدر اوباما نے انٹرویو میں کہا کہ امریکہ کو نسلی امتیاز کو شکست دینی ہو گی۔

’نسلی امتیاز سے ہمیں چھٹکارا نہیں ملا۔ معاملہ صرف یہ نہیں کہ عوام کے سامنے لفظ ’’نِگر‘‘ نہ بولا جائے کیونکہ یہ لفظ بدتمیزی کے زمرے میں آتا ہے۔‘

بطور صدر یہ پہلا موقع ہے کہ اوباما نے لفظ ’نِگر‘ استعمال کیا ہے۔ اس سے قبل انھوں نے اپنی کتاب ’Dreams from my Father‘ میں یہ لفظ استعمال کیا تھا لیکن وہ اس وقت صدر نہیں تھے۔

واضح رہے کہ ’نِگر‘ سیاہ فام افراد کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس لفظ کے استعمال کو توہین آمیز سمجھا جاتا ہے۔

انٹرویو میں صدر اوباما نے کانگریس پر تنقید کی کہ اس نے اسلحے کے بارے میں سخت قوانین نہیں بنائے۔

’یہ محض واضح امتیاز کا مسئلہ نہیں ہے۔ معاشرے میں 200 یا 300 سال قبل ہونے والے واقعات کو راتوں رات نہیں مٹایا جا سکتا۔‘

یاد رہے کہ ساؤتھ کیرولائنا کے علاقے چارلسٹن میں ایک افریقی امریکن چرچ پر ایک شخص نے فائرنگ کی تھی جس میں نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

جس شخص نے مبینہ طور پر اس چرچ پر فائرنگ کی تھی اس نے ایک تصویر میں کنفیڈریٹ پرچم اٹھایا ہوا ہے۔ کنفیڈریٹ پرچم جنوبی ریاستوں نے امریکی خانہ جنگی کے دوران استعمال کیا تھا جب ان ریاستوں نے غلامی کے خاتمے کے خلاف دیگر ریاستوں سے علیحدہ ہونے کی کوشش کی تھی۔

کنفیڈریٹ پرچم ساؤتھ کیرولائنا کے دارالحکومت میں اب بھی لہرا رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد سے ریاست میں بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا یہ پرچم لہرانے دیا جائے یا اس کو اتار لیا جائے۔

صدر اوباما نے اپنے انٹرویو میں ریاست میں لہرائے جانے والے پرچم کا تو ذکر نہیں کیا لیکن اتنا ضرور کہا کہ اس قسم کے پرچم عجائب گھروں میں ہونے چاہییں۔

اسی بارے میں