’یہودیوں کے قاتل قلعے‘ کا نام تبدیل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’یہودی قتل کرنے والا فورٹ‘ کا نام یہودی سے کیتھولک عیسائی ہونے والے افراد نے ریاست کو اپنی وفاداری کا ثبوت دینے کے لیے تبدیل کیا تھا

سپین کے ایک گاؤں کے رہائشیوں نے ریفرنڈم اور مقامی حکومت کی جانب سے اجازت کے بعد اپنےگاؤں کا وہ نام تبدیل کر لیا ہے جس کا ترجمہ ’یہودی قتل کرنے والا قلعہ‘ تھا۔

سپین کے اس گاؤں کا نام ’Castrillo Matajudios‘تھا اور اب اس گاؤں نے اپنا پرانا نام اختیار کیا ہے جو ’Castrillo Mota de Judios‘ ہے جس کا ترجمہ ہے ’یہودی کی ہل فورٹ‘۔

اس گاؤں میں 50 لوگ رہتے ہیں اور انھوں نے پچھلے سال اس گاؤں کا نام تبدیل کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

’یہودی قتل کرنے والا قلعہ‘ کا نام یہودی سے کیتھولک عیسائی ہونے والے افراد نے ریاست کو اپنی وفاداری کا ثبوت دینے کے لیے تبدیل کیا تھا۔

اس گاؤں کو 1035 میں عقوبت سے فرار ہونے والے یہودیوں نے قائم کیا تھا۔

پچھلے سال ریفرنڈم کے بعد گاؤں کے میئر نے انڈیپینڈنٹ اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ لفظ Matajudios ہمارے گاؤں کی سوچ اور فعل سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اور نہ ہی ہمارے پرچم سے جس پر ستارۂ داؤدی ہے۔‘

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق اس گاؤں کے نام کی تبدیلی کی منظوری ضلعی حکومت نے دی۔

واضح رہے کہ سپین میں اب بھی ایک گاؤں ہے جس کا نام Valle de Matamoros ہے جس کا ترجمہ ہے ’مورز کو قتل کرنے والی وادی‘۔

مورز کا مطلب شمالی افریقہ کے مسلمان حملہ آوروں سے ہے جنھوں نے سپین کے کچھ حصے پر قبضہ کیا تھا۔

تاہم اس گاؤں کا نام تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

اسی بارے میں