انسانی سمگلنگ: سو برطانوی شہریوں کو فرانس میں سزا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سمگلنگ گینگ ٹرک ڈرائیوروں کی بجائے بڑی تعداد میں گاڑی اور وین ڈرائیوروں کو بھرتی کر رہے ہیں

بی بی سی کو ملنے والی معلومات کے مطابق تقریباً 100 برطانوی شہریوں کو گذشتہ برس فرانس میں تارکین وطن کو کیلے کے راستے برطانیہ سمگل کرنے کے جرم میں جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر نے تارکین وطن کو اپنی گاڑیوں میں چھپایا تھا۔

سمگلنگ گینگ ٹرک ڈرائیوروں کی بجائے بڑی تعداد میں گاڑی اور وین ڈرائیوروں کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔

کیلے کی مرکزی عدالت کی ڈپٹی پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ ان کا ہر ماہ پانچ سے دس برطانوی سمگلروں سے واسطہ پڑتا ہے۔

جولی کولائرٹ نے بی بی سی کے فائل آن 4 پروگرام میں بتایا ہے کہ عدالت میں پیش ہونے والے لوگوں میں ایک چوتھائی تعداد برطانیہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ہوتی ہے، جن کا مشرقی یورپ کے سمگلروں کے بعد دوسرا نمبر ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’گذشتہ دو سالوں میں ہم نے زیادہ سے زیادہ برطانوی سمگلر دیکھے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’سمگلر گینگ ان افراد کو اپنی گاڑیوں میں لے جانے کے لیے بھرتی کرتے ہیں، اور تارکین وطن اس کے لیے بہت سے پیسے دیتے ہیں کیونکہ وہ انھیں برطانیہ پہنچانے کی ضمانت دیتے ہیں۔‘

جولی نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق گذشتہ ایک برس کے دوران برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 100 افراد کو عدالت نے مجرم قرار دیا ہے۔

Image caption استغاثہ کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر نے تارکین وطن کو اپنی گاڑیوں میں چھپایا تھا

انھوں نے اندازاً یہ تعداد اس لیے بتائی ہے کیونکہ فرانس میں شہریت کے بارے میں اعداد و شمار رکھنا غیر قانونی ہے۔

اسی قسم کے ایک حالیہ واقعے میں لنکاشائر سے تعلق رکھنے والے بشیر حاجی کو ایک سال جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔

بشیر حاجی کو دو عراقیوں کے ہمراہ، جو ان کی گاڑی کے ڈکی میں چھپے ہوئے تھے، کیلے کے فیری ٹرمینل پر پکڑا گیا تھا۔

انھوں نے ان عراقیوں کو 500 پاؤنڈز کے عوض برطانیہ سمگل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ جبکہ ان عراقیوں نے پولیس کو بتایا ہے کہ ان کے گھر والوں نے انھیں فی کس 4500 پاؤنڈز دیے تھے۔

بشیر حاجی نے جیل جانے سے قبل بی بی سی کو بتایا کہ ’میں بہت مقروض تھا اس لیے میں نے ایسا کیا۔ میں نے بہت سے پیسے کسینو میں ہارے ہیں۔‘

انھوں نے عدالت کو بتایا ہے کہ سمگلنگ نیٹ ورک میں ان کے اوپر تین لوگ کام کرتے ہیں اور ان کے خیال میں اس گینگ کا سربراہ انگلینڈ میں مقیم ہے۔

ماضی میں ایسے گینگ تارکین وطن کو ٹرکوں میں چھپایا کرتے تھے لیکن اب پرائیویٹ گاڑیوں کا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگوں کے خیال میں اس بات کا امکان کم ہوتا ہے کہ انھیں روکا جائے اور تلاشی لی جائے۔

بشیر حاجی کی فرانسیسی وکیل ایمانول آسمونت کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں لوگوں کو سمگل کرنے کے لیے ان گینگوں میں بھرتیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایسی مافیا تنظیمیں اب ایسے لوگوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں جن میں مالی مشکلات کے شکار طالب علموں سمیت بار کے مالکان اور دکاندار شامل ہیں جن کے کاروبار چل نہیں رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ماضی میں ایسے گینگ تارکین وطن کو ٹرکوں میں چھپایا کرتے تھے لیکن اب پرائیویٹ گاڑیوں کا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے

آسمونت کا کہنا ہے کہ ’ایسے لوگوں کی پہلی ملاقات شاید کسی کیفے میں ہوتی ہے۔ وہ دوستی کرتے ہیں، اور آہستہ آہستہ وہ ان میں دلچسپی لینے لگتے ہیں۔ ان سے ذاتی اور کاروباری صورتحال کے بارے میں سوالات کرتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس میں کئی ہفتے بھی لگ سکتے ہیں لیکن جب ان کا تعلق مضبوط ہو جاتا ہے تو وہ انھیں یہ کہہ کر انسانی سمگلنگ کا مشورہ دیتے ہیں کہ اس طرح جنگ کی وجہ سے گھر بار چھوڑ کر جانے والے دوستوں اور خاندانوں کی مدد ہو جائے گی۔‘

ان ڈرائیوروں کو گینگ والے ایک چکر کے 2100 سے 2800 پاؤنڈز ادا کرتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے تو اپنا پہلا چکر لگا لیتے ہیں لیکن دوسری یا تیسری کوشش میں پکڑے جاتے ہیں۔

پکڑے جانے والوں کو عام طور ہر چھ ماہ سے لے کر دو سال تک جیل کی سزا ہوتی ہے۔

آسمنت کے مطابق ایسے لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ جو وہ کر رہے ہیں وہ غیر قانونی ہے لیکن انھیں بتایا جاتا ہے کہ پکڑے جانے کا خطرہ کم ہے۔

تاہم مسلح اور خطرناک گینگوں کے ساتھ کام کرنا کسی طرح خطرے سے خالی نہیں۔

آسمنت کا کہنا ہے کہ ’وہ ان لوگوں اور ان کے بچوں کو ڈراتے ہیں۔ ایک بار آپ ان کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیں تو وہ آپ کو جانے نہیں دیتے۔‘

اسی بارے میں