غیر قانونی تارکین وطن کو روکنے کے لیے برطانیہ کی نئی ٹیم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption غیر قانونی تارکین وطن پر پورے یورپ میں سختی کی کوشش کی جا رہی ہے

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر یورپ آنے والے پناہ گزینوں کے معاملے سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ارکان کی ایک نئی ٹیم قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ اعلان فرانسیسی بندرگاہ کیلے پر منگل کو ہونے والی افراتفری کے بعد سامنے آیا ہے جہاں سینکڑوں پناہ گزین برطانیہ کو فرانس سے ملانے والی چینل سرنگ کے پاس کھڑی بسوں پر دن دہاڑے سوار ہوتے نظر آئے۔

خیال رہے کہ فرانس میں کشتیوں پر کام کرنے والوں کی ہڑتال کے نتیجے میں زمینی راستے پرگاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی تھیں۔

امیگریشن کے وزیر جیمز بروکن شائر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حالات کو ’انتہائی قابلِ افسوس‘ بتایا۔

وزیر نے کہا کہ اس نئی ٹیم میں پولیس، سرحدی فوجی، نیشنل کرائم ایجنسی میں کرنے والے حکام اور امیگریشن کے شعبے سے منسلک حکام شامل ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تارکین وطن ہڑتال کا فائدہ اٹھا کر برطانیہ جانے والی لاریوں میں سوار ہو رہے تھے

انھوں نے بتایا کہ اس ٹیم کے چند ارکان سسلی اور ہیگ میں یوروپول کے ساتھ رہیں گے جبکہ زیادہ تر برطانیہ میں تعینات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب فرانس اور ڈوور میں حالات سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے جہاں سینکڑوں پناہ گزین کشتی والوں کی ہڑتال کا فائدہ اٹھا کر برطانیہ پہنچنے کے لیے بے تاب ہیں۔

خیال رہے کہ فرانس اور برطانیہ کے درمیان چینل ٹنل فرانسیسی کشتیوں پر کام کرنے والوں کی منگل کو ہڑتال کے سلسلے میں بند رہی لیکن اب فرانس اور برطانیہ کے درمیان کشتی اور ٹرین کی سروس بحال ہو گئی ہے۔

برطانوی وزیر نے کہا کہ کیلے پر ’سکیورٹی اور تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری حتمی طور پر فرانس کی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرانس کے فیری ورکروں کی ہڑتال کی وجہ برطانیہ اور فرانس کے درمیان کشتی اور ریل کی آمد و رفت متاثر رہی

تاہم کیلے کے نائب میئر نے برطانیہ پر پناہ گزینوں میں اضافے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ برطانوی حکومت کو اس مسئلے کے حل کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس وقت تقریباً تین ہزار پناہ گزین کیلے کے نواح میں انگلش چینل عبور کرنے کے منتظر ہیں۔

برکن شائر نے کہا: ’یہ انتہائی قابل افسوس امر ہے کہ ہمیں فرانس میں ہڑتال کے نتیجے ایسے مناظر دیکھنے پڑے۔‘

انھوں نے کہا: ’ہم ڈوور کی بندرگاہ پر اضافی وسائل فراہم کر رہے ہیں تاکہ چینل کے دونوں جانب سکریننگ اور جانچ کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تقریبا تین ہزار پناہ گزین کیلے کے نواح میں چینل عبور کرنے کے منتظر ہیں

انھوں نے مزید کہا: ’ہمیں بتایا گیا ہے کہ فرانسیسی حکام وہاں امن و امان کی صورت حال کو بحال کرنے کے لیے مزید پولیس تعینات کر رہے ہیں اور ہم آنے والے کئی گھنٹوں تک ان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہوں گے۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ سال برطانیہ نے کیلئے کے راستے غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے فرانس کو تعاون کے طور پر تقریباً سوا کروڑ پاؤنڈ دینے کا عہد کیا تھا۔

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ رواں سال انگلش چینل کو پار کرنے کی تقریبا 19 ہزار غیرقانونی کوششوں کو ناکام بنایا گیا ہے جو کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں دگنی تعداد ہے۔

اسی بارے میں