سنی قبائل دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں تنہا

عنبر تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption قبائلی رہنماؤں کا خیال ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے کے لیے ان کے پاس مناسب ہتھیار نہیں ہیں

شیخ صبا العیسوی اپنی موت کے بارے میں فکر مند ہیں، اپنے لیے نہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے جنھیں وہ اپنے پیچھے چھوڑ کر جائیں گے۔ ان کی تین بیویاں اور 19 بچے۔

شیخ کی یہ تشویش بے جا نہیں ہے۔ عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے سنی قبائلی رہنما ہونے کے سبب وہ ہٹ لِسٹ پر ہیں اور اسی ماہ دولتِ اسلامیہ کے دو خود کش بمباروں کے حملے سے بال بال بچے ہیں۔

شیخ صبا العیسوی کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ واحد دشمن ہے جو ہر چیز کو اپنے حملوں کا نشانہ بناتا ہے، چاہے وہ عورتیں ہوں یا بچے، جنازے، مساجِد، علما ہر کوئی ان کے نشانے پر ہے۔

مغربی صوبے انبار میں شیخ ہمارے میزبان تھے۔ ہم بکتر بند گاڑی میں سوار ہو کر امیریات الفلوجہ پہنچے جہاں کونسل کی عمارت بموں سے چھلنی تھی۔ نو جون کو کونسل کے اجلاس کے دوران عمارت پر حملہ کیا گیا تھا۔

حملہ آوروں نے عمارت میں گھس کر کونسل ہال کی جانب فائرنگ شروع کر دی تھی۔ ان کا ہدف کونسلر اور قبائلی رہنما تھے، تاہم حملہ آوروں کو ہال میں گھسنے سے پہلے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اس حملےمیں تین افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں دو شیخ کے رشتے کے بھائی تھے۔

تھوڑا آگے چل کر اگلا محاذ تھا جہاں قبائلی جنگجو اور مقامی پولیس مورچہ زن تھی۔ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند آدھ کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر موجود تھے۔اردگرد تباہ شدہ مکانات کا ملبا تھا۔

شیخ صبا العیسوی کا کہنا تھا: ’گذشتہ اکتوبر میں جب دولتِ اسلامیہ نے اپنا بڑا حملہ کیا تھا تو ہم نے پانچ گھنٹوں تک امریکی فضائی حملوں کا انتظار کیا۔ ان کے زیادہ تر طیارہ بمباری کیے بغیر ہی واپس چلے گئے۔ امریکیوں کا کہنا تھا کہ وہ ہدف کو پہچان نہیں پائے جبکہ آپ صاف طور پر اپنی آنکھوں سے ان اہداف کو دیکھ سکتے تھے۔‘

شیخ کا کہنا تھا: ’ہمارے قبائل نے 2006 سے 2008 کے درمیان القاعدہ کے خلاف امریکیوں کے شانہ بشانہ جنگ لڑی اور عراق سے القاعدہ کو نکال باہر کرنے میں انکا پورا ساتھ دیا اور اس لڑائی میں بہت قربانیاں دیں‘۔

Image caption سنی قبائل کا کہنا ہے کہنا ہے کہ اب انہیں امریکہ پر بھروسہ نہیں

ایک اور سینیئر قبائلی رہنما شیخ عبداللہ کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے ہم سے کیے ہوئے وعدے پورے نہیں کیے۔ سنی بے گھر ہو رہے ہیں ان کا قتلِ عام ہو رہا ہے۔ انھوں نے ہمیں گمراہ کیا۔ امریکیوں کا کوئی بھروسہ نہیں اب ہم ان پر بھروسہ نہیں کرتے۔‘

اگلے محاذ پر انھوں نے ہمیں اپنے ہتھیار دکھائے۔ 26 سالہ ایک نوجوان یاسر احمد نے وہ کلاشنکوف دکھائی جو اسے حکومت سے ملی تھی۔ یاسر کا کہنا تھا کہ یہ رائفل شکار کے لیے تو ٹھیک ہے لیکن اس سے جنگ نہیں لڑی جا سکتی۔

یاسر کا کہنا تھا کہ ’اگر ہمارے وزیراعظم اور صدر اوباما چاہتے ہیں کہ ہم دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑیں تو انھیں ہمیں اچھے ہتھیار مہیا کرنے ہوں گے۔‘

گذشتہ سال دولتِ اسلامیہ کے ایک حملے میں یاسر نے اپنے والد اور دیگر 20 رشتے دار کھو دیے تھے، اور اپنی بھی ایک ٹانگ گنوا دی لیکن پھر بھی محاذ سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا۔

یاسر کا کہنا ہے: ’ہم نے 2007 میں بہت قربانیاں دی ہیں۔ ہم نے کبھی بھی جنگ چھوڑ کر جانے کے بارے میں نہیں سوچا کیونکہ ہم اپنے وقار، اپنی زمین اور خطے کا دفاع کر رہے ہیں۔‘

قبائلی رہنما اس خطے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ ان کا محاذ بغداد ہوائی اڈے سے صرف 15 میل دور ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر شدت پسند انکا محاذ پار کرنے میں کامیاب ہو گئے تو بغداد کا ہوائی اڈہ ان کے راکٹوں کی زد میں ہو گا۔

شیخ صبا العیسوی کا کہنا تھا کہ حکومت کو لگتا ہے کہ اگر سنیوں کو اسلحہ دیا گیا تو یہ ہتھیار دولتِ تک پہنچ جائیں گے۔ ان کا خیال ہے کہ تمام سنی دولتِ اسلامیہ کی حمایت کرتے ہیں لیکن اس کے پیچھے فرقہ وارانہ سوچ ہے۔

انکا کہنا تھا کہ عنبر کے زیادہ تر سنی دولت اسلامیہ کے خلاف ہیں اس لیے بھی کیونکہ انھیں ماضی یاد ہے۔ انھیں یاد ہے کہ 2006 اور 2008 میں القاعدہ کے خلاف لڑائی کے بعد کس طرح حکومت انہی کے خلاف ہو گئی تھی۔ لوگوں کو گرفتار کیا گیا، انھیں جیلوں میں ڈال دیا گیا اور بیشتر کو ہلاک کر دیا گیا۔

ہم نے شیخ صبا العیسوی کے ساتھ کھانا کھایا۔ اس دوران شیخ کے بچے کمرے کے اندر باہر دوڑتے پھر رہے تھے۔ شیخ کا کہنا تھا: ’جب میں سوچتا ہوں کہ آگے چل کر کیا کچھ ہو سکتا ہے تو کئی بار مجھے خیال آتا ہے کہ کاش میں نے شادی ہی نہ کی ہوتی۔‘

اسی بارے میں