’سائبر حملے میں چین بدستور سب سے اہم مشتبہ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چین بدستور مرکزی مشتبہ ہے اور امریکی حکومت کی تحقیقات جاری ہیں: جیمز کلیپر

امریکہ کی قومی انٹیلیجنس کے سربراہ نے کہا ہے کہ لاکھوں سابق اور موجودہ وفاقی ملازمین کی معلومات کی سائبر چوری کے معاملے میں چین ہی ’سب سے اہم مشتبہ‘ ہے۔

اس سائبر حملے کے بعد سے اب تک جیمز کلیپر سب سے اعلیٰ امریکی عہدیدار ہیں جنھوں نے چین کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں ہی چین پر اس سائبر حملے میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے گئے تھےجس میں امریکہ کے 40 لاکھ سابق اور موجودہ وفاقی ملازمین کی معلومات چرا لی گئی تھیں۔

چین نے ہمیشہ سے ان الزامات کو مسترد کیا ہے امریکہ پر ہونے والے ہیکرز کے حملے کے پیچھے اس کا ہاتھ تھا۔

جیمز کلیپر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ نے تین روزہ مذاکرات میں چین پر واضح کیا ہے اسے چینی سائبر سرگرمیوں پر تحفظات ہیں۔

ان مذاکرات میں دونوں ممالک نے سائبر دنیا کا ضابطۂ اخلاق وضع کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا تھا۔

نیشنل انٹیلیجنس کے سربراہ جیمز کلیپر کے دفتر کے مطابق انھوں نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ’چین بدستور مرکزی مشتبہ ہے اور امریکی حکومت کی تحقیقات جاری ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مذاکرات میں شریک چینی سٹیٹ قونصلر یانگ جائچی کا کہنا تھا کہ امریکہ کو حقائق کا احترام کرنا چاہیے

امریکی صدر براک اوباما نے بھی مذاکرات کے موقع پر چین کو اس کی سائبر سرگرمیوں پر امریکی تحفظات سے آگاہ کیا تھا اور اس پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

مذاکرات کے اختتام پر امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ امریکہ نے چین پر قطعی طور پر واضح کر دیا ہے کہ وہ ایسے حملے برداشت نہیں کرے گا اور یہ امریکہ کے لیے قابلِ قبول نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ دو طرفہ تعلقات کے تناظر میں کس طرح اس معاملے کو حل کرتے ہیں۔

اس پر مذاکرات میں شریک چینی سٹیٹ قونصلر یانگ جائچی کا کہنا تھا کہ امریکہ کو ’حقائق کا احترام کرنا چاہیے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا چین ہیکرز کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے اور سائبر سکیورٹی کے معاملے پر امریکہ سے تعاون کے لیے تیار ہے۔

اسی بارے میں