’سفید کرتا شلوار پہن کر ٹیکسی چلانے کی اجازت‘

تصویر کے کاپی رائٹ Raja Naeem
Image caption نعیم کا کہنا ہے کہ کمیشن کے قواعد کے مطابق يونیفارم پہن کر ٹیکسی نہ چلانے کی وجہ انھیں 30 سے زیادہ مرتبہ نوٹس دیے گئے

امریکی ریاست مزوری کے شہر سینٹ لوئیس ایک عدالت نے پاکستانی نژاد ٹیکسی ڈرائیور راجہ نعیم کو اپنی پسند کا لباس پہن کر ٹیکسی چلانے کی اجازت دے دی ہے۔

راجہ نعیم نے شہر کے ٹیکسی کیب کمیشن کے اس اصول کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا جس کے مطابق ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے بٹنوں والی سفید شرٹ اور کالی پتلون پہننا ضروری ہے۔

نعیم پاکستانی لباس یعنی شلوار قمیض پہن کر ٹیکسی چلانا چاہتے تھے۔

ٹیکسی کمیشن نے ابتدائی طور پر انھیں کچھ رعایت دیتے ہوئے گھٹنوں سے کچھ اوپر تک کا سفید کرتا اور کالی پتلون پہننے کی اجازت دی تھی لیکن نعیم چاہتے تھے کہ وہ سفید شلوار اور سفید کرتا ہی پہن کر ٹیکسی چلائیں۔

راجہ نعیم نے سینٹ لوئیس کی مقامی عدالت میں دائر مقدمے میں الزام لگایا تھا کہ انھیں کام کے دوران اپنا مذہبی لباس پہننے سے روکا گیا، جو ان کی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔

وہیں ٹیکسی کمیشن کا کہنا تھا کہ نعیم کو مذہب پر عمل کرنے سے کوئی نہیں روک رہا تھا، بس وردی کے رنگ میں فرق کا معاملہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Raja Naeem
Image caption راجہ نعیم سینٹ لوئیس شہر کے علاقے مانچسٹر میں اہلیہ اور چار بیٹیوں کے ساتھ مقیم ہیں

اب عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ کمیشن راجہ نعیم کو وردی پہننے کا پابند نہیں کر سکتا اور وہ اپنی مرضی اور مذہبی آزادی کے مطابق لباس پہن سکتے ہیں۔

نعیم کا کہنا ہے کہ کمیشن کے قواعد کے مطابق وردی پہن کر ٹیکسی نہ چلانے کی وجہ انھیں 30 سے زیادہ مرتبہ نوٹس دیے گئے اور وردی کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے دو بار پولیس نے بھی انھیں حراست میں لیا۔

ان کے مطابق ٹیکسی کمیشن نے ان کا لائسنس بھی منسوخ کر دیا تھا لیکن انھوں نے ہار نہیں مانی اور پہلے اس معاملے پر احتجاجی جلوس نکالا اور پھر معاملہ عدالت میں لے گئے۔

صحافی سلیم رضوی کے مطابق امریکی عدالتوں کے بارے میں نعیم کا کہنا ہے کہ ’یہاں کے عدالتی نظام سے مجھے بہت امید تھی۔ امریکہ میں اگر آپ انصاف حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انصاف ضرور ملتا ہے اور اسی لیے امریکہ دنیا میں اول نمبر کا ملک ہے۔‘

دو دہائی پہلے پاکستان سے امریکہ آنے والے 51 سالہ راجہ نعیم سینٹ لوئیس شہر کے علاقے مانچسٹر میں اپنی اہلیہ اور چار بیٹیوں کے ساتھ مقیم ہیں اور ٹیکسی چلا کر خاندان کی پرورش کر رہے ہیں۔