تیونس میں سیاحوں کے ہوٹلوں پر حملے میں’39 افراد ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہلاک ہونے والوں میں تیونس، برطانیہ، جرمنی اور بلغاریہ کے شہری شامل ہیں

تیونس میں وزارتِ صحت کے مطابق سیاحتی مقام سوسہ کے ساحل پر واقع دو ہوٹلوں پر حملے میں کم از کم 39 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق اس حملے میں اور 36 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

جمعے کو ہونے والے اس حملے کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ ’ہوٹل امپیریئل مرحبا‘ کے سامنے سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور ہلاک ہو گیا۔ تیونس کے ذرائع ابلاغ کے مطابق دوسرے حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے لیکن اس خبر کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے جبکہ دوسری جانب پہلے حملہ آور کی لاش کی ایک مبینہ تصویر معاشرتی رابطوں کی ویب سائیٹس پر شئر کی جا رہی ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے۔

تیونس کے وزارتِ داخلہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں تیونس، برطانیہ، جرمنی اور بلغاریہ کے شہری شامل ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ کا کہنا ہے ہلاک ہونے والوں میں کم از کم پانچ برطانوی شہری شامل ہیں۔ آئرلینڈ کی حکومت نے بھی ایک آئرش خاتون کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

تیونس میں حملوں میں کب کیا ہوا

سوسہ نامی یہ تفریحی مقام سیاحوں میں بہت مقبول ہے۔

یہ حملہ ایک ایسے دن ہوا ہے جب فرانس میں ایک فیکٹری پر حملے میں ایک شخص کا سر قلم کر دیا گیا ہے اور خلیجی ریاست کویت میں شیعہ مسلمانوں کی ایک مسجد پر حملے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

فرانس: حملے میں ’ایک شخص کا سرقلم کر دیا گیا‘

کویت: شیعہ مسجد میں ’خود کش‘ دھماکہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس اہلکار ایک مشتبہ حملہ آور کو گرفتار کر کے لے جا رہے ہیں

چھٹیاں منانے کی غرض سے تیونس گئے ہوئے ایک برطانوی شخص نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس نے ایک قریبی ہوٹل پر حملے کی آوازیں سنی ہیں۔

مذکورہ شخص کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے ایک شخص کو دیکھا جس نے پستول پکڑا ہوا تھا، تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا یہ مسلح شخص حملہ آور تھا یا کوئی سکیورٹی اہلکار۔

ایک برطانوی شہری گلین لِیتھلی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کی بیٹی بھی جائے وقوع پر موجود تھی اور اس نے فون پر بتایا ہے کہ ’ساحل پر ہر طرف گولیاں چل رہی ہیں۔‘

تعطیلات کی غرض سے تیونس گئے ہوئے ایک اور برطانوی سٹیو جانسن کا کہنا تھا کہ ’ ہم معمول کے مطابق ساحل پر لیٹے ہوئے تھے کہ ہمیں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جیسے آتش بازی ہو رہی ہو۔‘

’لیکن یہ بہت جلد ہی واضح ہو گیا یہ آتش بازی نہیں بلکہ فائرنگ ہو رہی تھی۔ لوگ چیخ رہے تھے اور جان بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے۔‘

مارچ میں تیونس کے دارالحکومت تیونس میں ایک عجائب گھر پر ہونے والے حملے میں کم از کم 22 افراد مارے گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت غیر ملکی سیاحوں کی تھی اور اس حملے کے بعد سے ملک میں حفاظتی اقدامات سخت کر دیے گئے تھے اور سکیورٹی ہائی الرٹ پر تھی۔

یاد رہے کہ دہشتگرد گروہ دولت اسلامیہ نے اپنے جنگجوؤں سے کہہ رکھا ہے کہ وہ رمضان کے مہینے میں اپنے حملوں میں اضافہ کر دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اسی بارے میں