کویت میں یومِ سوگ، تیل تنصیبات کی سکیورٹی میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس نے کئی مشکوک افراد کو بھی حراست میں لے لیا ہے

کویت میں شیعہ مسلمانوں کی مسجد پر حملے کے بعد یوم سوگ منایا جا رہا ہے اور تیل کی تنصیبات کی سکیورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے۔

کویت کی وزارتِ داخلہ کے مطابق دارالحکومت کویت سٹی میں واقع شیعہ مسلمانوں کی ایک مسجد میں جمعے کی نماز کے دوران خود کش دھماکے میں کم سے کم 27 افراد ہلاک اور 227 افراد زخمی ہو ئے تھے۔

یہ خود کش دھماکہ شیعہ مسلمانوں کی امام صادق مسجد میں ہوا جو شہر کے مشرقی علاقے الصوابیر میں واقع ہے۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے منسلک ایک تنظیم نجد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

خیال رہے کہ دولتِ اسلامیہ نے حالیہ دنوں میں ہمسایہ ممالک سعودی عرب اور یمن میں بھی اس طرح کے حملے کیے تھے تاہم کویت میں شیعہ مسلمانوں کی کسی مسجد پر یہ پہلا حملہ تھا۔

کویت کی نیشنل پٹرولیم کپمنی کے ترجمان کا کہنا ہے اس دھماکے کے بعد ملک میں تیل کی تنصیبات کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے پوچھ گچھ کے لیے کئی مشکوک افراد کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے منسلک ایک تنظیم نجد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے

اس سے قبل روئٹرز نے کویت کی پارلیمان کے ایک رکن اور اس حملے کے عینی شاہد کے حوالے سے بتایا تھا کہ جمعے کو ہونے والے دھماکے کے وقت مسجد میں 2,000 افراد موجود تھے۔

الجزیرہ ٹی وی کے مطابق دھماکے کے وقت کویت کے امیر اس جگہ سے گزر رہے تھے۔

کویتی وزیراعظم شیخ جابر المبارک الصباح کا کہنا ہے کہ یہ حملہ قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔ انھوں نے مزید کہنا کہ تاہم یہ کام دشمنوں کے لیے بہت مشکل ہے اور ہم اس سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں۔

ریاستی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا تھا۔

کویت میں سنی حکومت ہے اور ملک میں شیعہ اقلیت پائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں