نائجیریا میں خواتین خودکش بمباروں کا حملہ، تین ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ تین سال میں بوکو حرام نے مسلح بغاوت کے ذریعے 10 ہزار سے زائد افراد کو قتل کیا

نائجیریا کی شمالی مشرقی ریاست بورنو میں دو خواتین خودکش بمباروں کے حملے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عینی شاہدین نے کہا ہےکہ دو خواتین خودکش حملہ آوروں نے ایک ہسپتالمیں داخل ہونے کی کوشش کی۔ تاہم موقع پر موجود سکیورٹی اہلکار نے جب انھیں روکا تو خواتین نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔

حملے کے نتیجے میں کم ازکم تین افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوئے۔

خیال رہے کہ بوکو حرام کی جانب سے گذشتہ ایک ماہ کے دوران نائجیریا میں کیے جانے والے حملوں میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

میدو غوری کے سرکاری ہسپتال نے تصدیق کی کہ وہاں تین لاشیں اور 6 زخمیوں کو لایا گیا ہے۔

نائجیریا کے صدر محمد بخاری نے حال ہی میں اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ملکر ایک مشترکہ فوج بنانے کے لیے بات چیت کی تھی۔ جس کا مقصد دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے۔

اسی سلسلے میں انھوں نے اس ماہ کے آخر میں کیمرون کا دورہ بھی کرنا ہے۔

وہ 20 جولائی کو واشنگٹن بھی جائیں گے ۔ بوکو حرام کے خلاف جنگ پر بات چیت ان کے دورے کے ایجنڈے میں سر فہرست ہوگی۔

یاد رہے کہ بوکو حرام کی مسلح بغاوت میں سنہ 2012 سے اب تک 15 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تشدد کی یہ لہر اب پڑوسی ممالک نائجر، چاڈ اور کمیرون تک پھیل گئی ہے۔

گذشتہ سال اکتوبر میں حکومت نے جنگ بندی اور چیبوک سکول سے اغوا کی جانے والی لڑکیوں کی رہائی کے متعلق معاہدے کی بات کہی تھی لیکن بوکو حرام نے اسے مسترد کر دیا تھا۔

چیبوک سکول کی لڑکیوں کے اغوا کیے جانے پر عالمی سطح پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا اور ان کی بازیابی کے لیے ’برنگ بیک آور گرلز‘ نامی آن لائن مہم میں متعدد افراد نے شرکت کی تھی۔

اسی بارے میں