’ٹروجن ہارس‘ واقعات، کمیٹی کی رپورٹ پر حکومتی تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آفسٹیڈ نے اکیس سکولوں کے بارے میں تحقیقات کی تھیں اور پانچ سکولوں کے لیے گزشتہ سال خصوصی اقدامات تجویز کیے گئے تھے

برطانیہ میں حکومت نے کہا ہے کہ خطرہ ہے کہ اراکینِ پارلیمان برمنگھم میں ’ٹروجن ہارس‘ واقعات کی اہمیت کم کر کے انتہا پسندی سے نمٹنے کی کوششوں کو کمزور نہ کر دیں۔

یہ بات محکمۂ تعلیم نے برمنگھم میں مسلمانوں کے ایک قدامت پسند گروپ کی جانب سے ایک سکول پر مبینہ قبضے کی سازش کے بارے میں تعلیم کی سیلیکٹ کمیٹی کی رپورٹ کے جواب میں کہی ہے۔

مارچ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق انتہا پسندی کا صرف ایک واقعہ پایا گیا تھا۔ یہ بھی کہا گیا کہ شہر کے سکولوں پر قبضے کی سازش کی کوئی شہادت نہیں تھی۔

محکمۂ تعلیم نے کہا تھا کہ ’برمنگھم میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ اس خطرے کی اہمیت کم کرتا ہے جس سے امکان ہے کہ انتہا پسندی کو روکنے کی ہماری کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔‘

’یہ واضح طور پر کہنا اہم ہے کہ ان سکولوں میں پڑھنے والے چھوٹے بچوں کے لیے یہ کتنا نقصان دہ ہے۔‘

گذشتہ مارچ میں ایک خط کے سامنے آنے کے بعد جس میں سکولوں کے اندر’ہمدرد‘ گورنر لگوانے کی ہدایت درج تھیں، کئی انکوائریاں ہوئی ہیں اور اس معاملے کی کئی مرتبہ تحقیق کی گئی ہے۔

کچھ حلقے اس معاملے کو چھیڑ چھاڑ یا لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش قرار دیتے ہیں اور ان دعووں کو جو خط میں کئی سکولوں کے بارے میں کیے گئے تھے بے بنیاد سمجھا گیا ہے۔

تاہم جون 2014 میں آفسٹیڈ کے سربراہ سر مائیکل وِلشا نے کہا تھا ’کچھ سکولوں میں خوف اور دھمکانے کا کلچر جگہ بنا چکا ہے اور اس بات کی شہادت موجود ہے کہ سیکیولر سکولوں میں مذہبی عقائد سے متعلق ایک تنگ نظر سوچ مسط کرنے کی کوشش کی گئی۔‘

مجموعی طور پر آفسٹیڈ نے 21 سکولوں کے بارے میں تحقیقات کی تھیں اور پانچ سکولوں کے لیے گذشتہ سال خصوصی اقدامات تجویز کیے گئے تھے۔

اس وقت تنقید کا رخ مجموعی طور پر سکولوں کے سربراہوں اور بعض حالتوں میں تدریس کے معیار پر تھا۔

تاہم برمنگھم سٹی کونسل نے اس تنازعے کے بعد سکولوں کے گورنروں کی تقرری کے لیے اب نئے ضابطے متعارف کرائے ہیں۔

اسی بارے میں