تیونس حملے کے خلاف سینکڑوں افراد کا مظاہرہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تیونس کے سیاحتی شہر سوسہ میں مقامی اور بیرونی سیاحوں نے حملے کے خلاف سنیچر کی رات مظاہرہ کیا

تیونس کے سیاحتی شہر سوسہ میں جمعے کو ہونے والے حملے کے خلاف سنیچر کو مظاہرہ کیا گیا۔

اس حملے میں 38 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں زیادہ تر سیاح تھے، ہلاک ہونے والوں میں برطانیہ کے 15 افراد شامل تھے۔

مظاہرین سنیچر کو دیر گئے اس ہوٹل کے قریب جمع ہوئے جسے حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

مظاہرین نے وہاں سے شہر میں مارچ کیا اور ہلاک ہونے والوں افراد کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔

تیونس کے وزیر اعظم حبیب الصید نے دولت اسلامیہ کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کیے جانے کے بعد ملک میں سکیورٹی کے سخت اقدامات کا اعلان کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مظاہرین نے دہشت گردی کے خلاف بینر اٹھا رکھے تھے اور کے ہاتھ میں موم بتیاں روشن تھیں

انھوں نے کہا کہ سیاحتی مقامات پر فوجی تعینات کیے جائيں گے اس کے علاوہ تقریبا ایسی 80 مساجد کو ایک ہفتے میں بند کردیا جائے گا جہاں سے تشدد کو ہوا دی جاتی ہے۔

مظاہرین نے سورج غروب ہونے کے بعد شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں جلوس نکالا۔ ان میں سے بعض کے ہاتھوں میں ہلاک شدگان سے اظہار عقیدت کے طور پر موم بتیاں روشن تھیں۔

مظاہرین ’سوسہ کبھی نہیں مر سکتا‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

دارالحکومت تیونس میں بھی ایک ریلی نکالی گئی۔ خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مظاہرہ کرنے والے میں سے ایک کریما بن حاج نے کہا ’انسانیت کے لحاظ سے مرنے والے میرے بھائی اور بہن تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مرنے والوں میں زیادہ تر سیاح شامل تھے

تیونس کی وزارتِ صحت کے مطابق مرنے والے افراد میں سے جرمنی اور بیلجیم کے ایک ایک شخص کی شناخت ہو گئی ہے جبکہ آئرلینڈ کے ایک شہری کی موت کی تصدیق ہوئی ہے۔

اس حملے میں تیونس کے کئی شہریوں کی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں جبکہ 36 دوسرے افراد زخمی ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption جمعے کے حملے میں 38 افراد ہلاک ہوئے تھے

ایک برطانوی شہری گلین لِیتھلی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی بیٹی بھی جائے وقوع پر موجود تھی اور اس نے فون پر بتایا کہ ’ساحل پر ہر طرف گولیاں چل رہی تھیں۔‘

تعطیلات کی غرض سے تیونس گئے ہوئے ایک اور برطانوی سٹیو جانسن کا کہنا تھا ’ہم معمول کے مطابق ساحل پر لیٹے ہوئے تھے کہ ہمیں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سکیورٹی کے مزید سخت انتظامات کے اعلان کیے گئے ہیں

مارچ میں تیونس کے دارالحکومت تیونس میں ایک عجائب گھر پر ہونے والے حملے میں کم از کم 22 افراد مارے گئے تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں اکثریت غیر ملکی سیاحوں کی تھی اور اس حملے کے بعد سے ملک میں حفاظتی اقدامات سخت کر دیے گئے تھے۔

اسی بارے میں