بی بی سی نے لنکس کی فہرست جاری کر کے ’مثال قائم کی‘

تصویر کے کاپی رائٹ getty

بی بی سی کی ادارتی پالیسی کے سربراہ ڈیوڈ جارڈن کا کہنا ہے کہ بی بی سی نے گوگل سرچ سے نکالے گئے لنکس کی فہرست جاری کر کے ذرائع ابلاغ کے دیگر اداروں کے لیے مثال قائم کر دی ہے۔

یہ لنکس یورپی عدالت کی جانب سے ’رائٹ ٹو بی فورگاٹن‘ یعنی بھول جانے کے حق کے سلسلے میں دیے گئے حکم کے تحت گوگل سرچ سے نکالے گئے ہیں۔

اس عدالتی فیصلے کے تحت لوگوں کو یہ حق حاصل ہو گا کہ اس بات کا فیصلہ کر سکیں کہ جب ان کا نام گوگل پر تلاش کیا جائے تو کون سے لنکس نہ دکھائے جائیں۔

بی بی سی نے اپنے بارے میں ہٹائی گئی تمام کہانیوں کی فہرست جاری کر دی ہے۔

ڈیوڈ جارڈن کا کہنا ہے کہ بی بی سی یہ فہرست جاری کرتی رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ جانے بغیر کہ کیا کچھ ہٹا لیا گیا ہے کسی بھی بارے میں معنی خیز بحث کرنا ناممکن ہو جائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ اب یہ اداروں پر انفرادی طور پر منحصر ہے کہ وہ اپنے سامعین کو کس قدر بتانا چاہتے ہیں کہ ان کے کہنے پر کیا کچھ ہٹایا گیا ہے اور اس سلسلے میں بی بی سی نے سنسنی مچائے بغیر خود ہی پہلا قدم اٹھایا ہے۔

انھوں نے اس خیال کو رد کیا کہ ایسا کرنے سے ان لنکس کو زیادہ اہمیت یا شہرت ملے گی۔

انھوں نے کہا کہ ایسا کرنے سے کسی کے لیے وہ لنکس ڈھونڈنا زیادہ آسان نہیں ہو جاتا۔ ’اس سے یہ ضرور معلوم ہو گا کہ لوگ کس طرح کی معلومات چھپا رہے ہیں جو کہ اہم بات ہے۔‘

گذشتہ سال یورپیئن کورٹ آف جسٹس نے کہا تھا کہ کسی شخص کے کہنے پر ان کے حوالے سے غیر متعلقہ یا پرانے لنکس کو ہٹا دیا جانا چاہیے۔

یہ قانون صرف یورپی یونین میں موجود صارفین کے لیے ہے۔

یہ فیصلہ تب کیا گیا جب سپین میں ایک شخص نے کہا کہ گوگل پر ان کا نام تلاش کرنے پر ان کے مکان کی فروخت کی تفصیلات ان کی ذاتی رازداری کی خلاف ورزی ہے۔

لنکس ہٹانے کا مطلب نہیں کہ انٹرنیٹ سے یہ مواد ہٹا دیا جائے گا بلکہ صرف یہ کہ کسی سرچ انجن میں تلاش کرنے سے وہ لنکس سامنے نہیں آئے گا۔ گوگل عدالت کے اس فیصلے کو مایوس کن کہہ چکا ہے۔

انٹرنیٹ پر آزادیِ اظہارِ رائے کا کہنا ہے کہ یہ قانون سنسرشپ کے مترادف ہے۔

اسی بارے میں