عدالت: نجی ڈرون مار گرانا بلا جواز تھا

ڈرون تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ڈرون جدید کھلونوں کے طور پر مقبولیت اختیار کر رہے ہیں

امریکہ کی ایک عدالت نے گذشتہ برس مار گرائے جانے والے ایک نجی ڈرون کا قضیہ نمٹاتے ہوئے فیصلہ ڈرون کے مالک کے حق میں دیا ہے۔

یہ ڈرون، جسے اپنی ہیت کی وجہ سے ہیکساکاپٹر بھی کہا جاتا ہے، ایرِک جو نے خود ہی تیار کیا تھا۔

نومبر 2014 میں ایرِک اپنا ڈرون اڑا رہے تھے کہ ان کے پڑوسی بریٹ میکبے نے اسے مار گرایا۔

بریٹ کا دعوٰی تھا کہ یہ ڈرون ان کی اراضی کے اوپر محو پرواز تھا اور انھیں ایسا لگا کہ اس کے ذریعے ان کی جاسوسی کی جا رہی ہے۔

ایرِک نے بریٹ سے ڈرون کی مرمت کے لیے رقم کا مطالبہ کیا تاہم بریٹ کے انکار کے بعد انھوں نے ریاست کیلیفورنیا کی چھوٹے مقدمات سے متعلق عدالت میں دعوٰی دائر کر دیا۔

اپنے موقف کے ثبوت کے طور پر انھوں نے عدالت میں جی پی ایس سے حاصل شدہ وہ نقشے پیش کیے جن سے ثابت ہوتا تھا کہ جس وقت ان کے پڑوسی بریٹ نے ان کے ڈرون کو نشانہ بنایا تھا اس وقت وہ ان کے والدین کے اخروٹ کے باغ کے اوپر اڑ رہا تھا۔

اپنے فیصلے میں کیلیفورنیا کی عدالت نے قرار دیا کہ بریٹ کا ’فعل بلا جواز‘ تھا چاہے ڈرون ان کی یا کسی اور کی ملکیت کے اوپر پرواز کر رہا تھا۔

عدالت نے بریٹ کو حکم دیا کہ وہ ایرِک کو 750 ڈالر زرِتلافی کے طور پر ادا کریں۔ ایرِک کا کہنا ہے کہ اگر جون کے آخر تک انھیں رقم نہ ملی تو وہ اس سلسلے میں مزید قانونی چارہ جوئی کریں گے۔

بریٹ نے ردعمل کے لیے بی بی سی یا کسی دوسرے خبر رساں ادارے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔

ایرِک کا ڈرون پہلا نہیں جسے مار گرایا گیا ہو۔ ایسے کئی واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں، حالانکہ وفاقی ہوابازی کا ادارہ واضح طور پر کہہ چکا ہے کہ ایسا کرنا غیر قانونی ہے۔

اسی بارے میں