’ریفرینڈم میں تجاویز کو رد کیا تو یورپی اتحاد سے باہر‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یونان کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ ہے اور ممکن ہے کہ وہ یورو زون کے 19 ممالک کا حصہ نہ رہے

یورپی یونین کے رہنماؤں نے یونان کو خبردار کیا ہے کہ اتوار کو ہونے والے ریفرینڈم میں اگر عالمی قرض خواہوں کی تجاویز کو مسترد کیا گیا تو اس کا مطلب یورپی اتحاد سے نکلنا ہو گا۔

یونان میں دیوالیے سے بچنے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے رکھی گئیں شرائط کو ماننے کے بارے میں پانچ جولائی کو ریفرینڈم منعقد ہو گا۔

جرمنی کے وزیر خزانہ سیگمار گیبریئل نے کہا ہے کہ ووٹ کا مطلب ’یورو زون کو ہاں یا نہ‘ کہنا ہو گا۔

یونان کے وزیر خزانہ کے مطابق وہ انکار کے ووٹ پر زور دیتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ یونان یورو زون کا حصہ رہے۔

جرمنی کے وزیر خزانہ کے علاوہ یورو زون کی دیگر دو بڑی معاشی طاقتوں کے رہنماؤں کے مطابق یونان کی عوام کو ریفرینڈم میں موثر طریقے سے اس بات کو طے کرنا ہو گا کہ وہ یورو زون میں رہنا چاہتےہیں کہ نہیں۔

اٹلی کے وزیراعظم ماتئو رنتزی کا کہنا ہے کہ یورو اور یونان کی پرانی سرکاری کرنسی کے دومیان انتخاب ہو گا جبکہ فرانس کے صدر فرانسو اولاند نے کہا ہے کہ’ اس وقت داؤ پر یہ لگا ہے کہ آیا یونان یورو زون میں رہنا چاہتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یونانی پارلیمان نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے رکھی گئیں شرائط کو ماننے کے لیے ریفرینڈم کی حمایت کی ہے

برطانوی وزیر خزانہ جارج اوسبورن نے کہا ہے کہ یونان کا انخلا صدمے کا باعث ہو گا اور برطانیہ اس کے اثرات کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔

اس سے پہلے یونان کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ یورپی سینٹرل بینک کی جانب سے ہنگامی امدادی فنڈ میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے ملک کے تمام بینک ایک ہفتہ تک بند رہیں گے۔

حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سرمایہ یا نقدی کی قلت کی وجہ سے ملک کے مالیاتی نظام کو بچانے کے لیے یہ ’انتہائی ضروری‘ اقدام ہے۔

حکم نامے کے مطابق یونان میں بینکوں کے اے ٹی ایم سے رقوم نکلوانے کی بھی حد مقرر کر دی گئی ہے جس کے تحت ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 60 یورو تک رقم نکلوائی جا سکتی ہے۔

یونان کو منگل تک عالمی مالیاتی ادارے کو ایک ارب 60 کروڑ یورو کا قرض واپس کرنا ہے۔

اس سے قبل یونان کو دیوالیہ پن سے بچانے کے لیے بیل آؤٹ پیکیج پر یورپی ممالک اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان ہفتہ بھر جاری رہنے والے مذاکرات کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہے۔

ملک کے وزیراعظم نے پانچ جولائی کو ریفرینڈم کروانے کا اعلان کیا ہے اور پارلیمان نے اُن کے فیصلے کی توثیق کی ہے۔

یونان کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ ہے اور ممکن ہے کہ وہ یورو زون کے 19 ممالک کا حصہ نہ رہے۔

بینک سے رقوم نکلوانے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ یونان کی کابینہ نے اتوار کو رات دیر گئے تک جاری رہنے والے طویل اجلاس کے بعد کیا۔

سرکاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پیر کو ملک کی سٹاک مارکیٹ بھی بند رہے گی۔

بینکوں سے رقوم نکلوانے کی یومیہ حد 60 یورو کا اطلاق غیر ملکی بینکوں کے کھاتے داروں پر نہیں ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اے ٹی ایم یا کیش مشین سے رقم نکوالنے کے لیے 60 یورو یومیہ کی حد مقرر کی گئی ہے

ملک کے وزیراعظم ایلکسس تسیپراس نے ٹی وی پر خطاب میں عوام کو پرامن رہنے کو کہا اور انھیں یقین دلایا کہ ان کی رقوم، تنخواہیں اور پنشنیں محفوظ ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا ہے کہ یونان کے اثاثے محفوظ ہیں اور بیل آؤٹ کی توسیع کے لیے ایک بار پھر درخواست کی ہے، جس کے لیے وہ یورو زون کے فوری جواب کے منتظر ہیں۔

یونان میں بینکوں کے باہر اے ٹی ایم سے رقوم نکلوانے کے لیے لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ پانچ جولائی کو ہونے والے ریفرینڈم کے دو روز بعد یعنی سات جولائی کو بینک کھل جائیں گے۔

سرمائے پر کنٹرول

  • کوئی بھی شخص ایک دن میں اپنے اکاؤنٹ سے 60 یورو یعنی 66 ڈالر سے زیادہ رقم نہیں نکلوا سکے گا۔

  • پہلے سے منظور شدہ تجارتی لین دین کے علاوہ بیرونِ ملک رقم کی منتقلی ممکن نہیں ہو گی۔

یورو زون کے وزرائے خزانہ نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری یونان پر عائد کی ہے۔ یورپی کمیشن نے قرض دہندگان کی جانب سے مذاکرات میں پیش کی جانے والی تجاویز شائع کر دی ہیں۔

لیکن یونان کا کہنا ہے کہ قرض دہندگان کی شرائط ’قابل عمل‘ نہیں ہیں اور بیل آؤٹ پیکیج میں توسیع کا مطالبہ کیا ہے۔

یونان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے اور اسے یورپی اتحاد میں رکھے جانے کی کوششوں کے سلسلے میں یورپی یونین اور یونان کے کئی اجلاس ہوئے ہیں۔

ان مذاکرات میں یونان نے امیروں اور کاروباری اداروں پر نئے ٹیکسوں سمیت سمجھوتے کے لیے نئی تجاویز پیش کی تھیں۔

یونان کا مجموعی قرض اُس کی مجموعی سالانہ قومی پیداوار کے دگنے کے لگ بھگ ہے اور ماہرین کے بقول اگر اُسے ادائیگی میں سہولت نہ ملی تو یونان کے لیے ہر کچھ عرصے بعد نئے قرضوں کے حصول کے چکر سے نکلنا مشکل ہو گا۔

اقتصادی امور سے متعلق بی بی سی کے نامہ نگار رابرٹ پیسٹن کا کہنا ہے کہ رقوم نکلوانے پر پابندی اور عارضی طور پر بینک بند کرنے کا فیصلہ یونان کے لیے بری خبر ہے۔ یونانیوں کے پاس خرچ اور سرمایہ کاری کرنے کے لیے رقم کم ہو گی، جس کی وجہ سے یونان کی پہلے سے کمزور معیشت مزید کساد بازاری کا شکار ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں