اسرائیل فلسطینی قیدی کی رہائی کے لیے رضامند

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption قادر عدنان گشتہ 55 دنوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں اور ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایک فلسطینی قیدی کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جو گذشتہ 55 دنوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں اور ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ فلسطینی قیدی 37 سالہ قادر عدنان رفتہ رفتہ کھانا پینا شروع کر دیں گے اور انھیں دو ہفتوں میں رہا کر دیا جائے گا۔

قادر عدنان کو ’انتظامی حراست‘ میں رکھا گیا ہے اور اس کے تحت اسرائیل کسی بھی مشتبہ فلسطینی کو کسی مقدمے کے بغیر غیر معینہ مدت تک حراست میں رکھ سکتا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسلامی جہاد تنظیم کے ارکان ملک کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فلسطین کے پرزنرز کلب کے صدر قدورہ فاریس نے کہا کہ ’یہ معاہدہ طے پا گیا ہے‘ مسٹر عدنان کی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے، اور انھیں 12 جولائی کو رہا کر دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس سے قبل قادر عدنان کو کئی بار اسرائیل نے قید کیا ہے اور رہائي ملی ہے

اسرائیلی اخبار ہارٹز نے بھی یہ خبر دی ہے کہ اسرائیلی حکام قادر عدنان کو رہا کرنے کے لیے رضا مند ہو گئے ہیں جبکہ مسٹر عدنان ابھی ہسپتال میں ہیں۔

خیال رہے کہ قادر عدنان کو اسرائیل نے اس سے قبل کئی بار گرفتار کیا ہے اور آخری بار انھیں گذشتہ سال جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔

’انتظامی حراست‘ کے تحت اسرائیل کسی مشتبہ فلسطینی کو غیر معینہ مدت تک کے لیے حراست میں رکھ سکتا ہے البتہ ہر چھ ماہ پر اس کی حراست میں توسیع کیے جانے کی بات اس میں شامل ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس بابت اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اسی بارے میں