سپین اور پرتگال میں شدید گرمی، شہریوں کو احتیاط کی ہدایت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سال 2003 میں یورپ میں گرمی کی شدید لہر کے نتیجے میں 70 ہزار افراد مارے گئے تھے

یورپی ملک سپین اور پرتگال گرمی کی شدید لہر کی لپیٹ میں ہیں اور حکام نے شہریوں کی صحت کے حوالے سے وراننگ جاری کی ہے۔

ان ممالک کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت 40 سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے جبکہ سپین کے چالیس سے زائد صوبوں میں گرم موسم کی وارننگ جاری کی گیی ہے۔

سپین کے جنوبی شہر قرطبہ میں ریڈ الرٹ جاری کیا گیا۔ ہمسایہ ملک پرتگال نے چار خطوں کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا ہے۔

دونوں ممالک میں خبردار کیا گیا ہے کہ گرم موسم کے نتیجے میں جنگلوں میں آگ لگنے کا خدشہ ہے۔

سپین کے محکمۂ موسمیات کے ایک ترجمان نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ موسمی حالات غیر معمولی ہیں۔

انھوں نے خبردار کیا کہ غیر معمولی درجہ حرارت کے نتیجے میں شہریوں کی صحت کو بہت زیادہ خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

سپین کے شہر قرطبہ، اشبیلیہ اور طلیطلہ پیر کو گرمی کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے جبکہ بعض علاقوں میں درجہ حرارت 44 سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا توقع ہے۔

اشبیلیہ میں لوگوں نے گرمی سے بچنے کے لیے دریا کا رخ کیا اور وہاں نہاتے رہے جبکہ حکام نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ انھیں دن میں کم از کم تین لیٹر پانی پینا چاہیے اور گرم خوراک کھانے سے پرہیز کریں۔

گرمی کی لہر پھیلنے کے خدشے سے فرانس اور برطانیہ میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔

سال 2003 میں یورپ میں گرمی کی شدید لہر کے نتیجے میں 70 ہزار افراد مارے گئے تھے۔

فرانس کے وزیرِ ماحولیات سگولینی رائل کا کہنا ہے کہ’ میرے خیال میں گرمی کی حالیہ لہر کے اثرات 2003 جیسے ہو سکتے ہیں کیونکہ اس وقت ہم اس کے لیے تیار نہیں تھے۔‘

واضح رہے کہ حالیہ دنوں پاکستان کے شہر کراچی میں گرمی کی شدت سے 11 سو سے زائد شہری ہلاک ہو گئے تھے جبکہ بھارت میں بھی چند ہفتے قبل شدید گرمی کے نتیجے میں سینکڑوں شہری ہلاک ہوئے۔