یمنی دارالحکومت میں کار بم دھماکہ، ہلاکتوں کا خدشہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیر کو ہونے والے ایک کار بم دھماکے میں کار کا ملبہ دیکھا گیا

یمن میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت صنعا میں ایک کار بم دھماکے میں متعدد افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔

ادھر دولت اسلامیہ کی جانب سے ایک آن لائن بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی جماعت کی صنعا شاخ نے یمنی دارالحکومت میں کار بم حملہ کیا ہے جس میں متعدد افراد مارے گئے ہیں۔

ایک فوجی ہسپتال کے پاس ہونے والے اس حملے کے ہدف کے بارے میں متضاد خبریں آ رہی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ اس کا ہدف کئی حوثی باغیوں کے گھر تھے جبکہ روئٹرز کا کہنا ہے کہ باغیوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس دھماکے میں 30 کے قریب لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں سے کئی کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ یمن میں شیعہ حوثی باغی جنگجو کئی ماہ سے جلاوطن سابق صدر منصور ہادی کی وفادار فوج سے برسرپیکار ہیں۔

سعودی عرب کی قیادت میں حوثی باغیوں کے خلاف مارچ سے شروع ہونے والے فضائی حملوں سے یمنی شہریوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اقوام متحدہ کے مطابق یمن کی جنگ میں تقریبا 2000 افراد ہلاک ہوئے ہیں

خبر رساں ادارے اے پی نے حوثی باغیوں کے قریبی ذرائع کے حوالے سے کہا کہ اس حملے کا ہدف حوثی رہنماؤں کے گھر تھے۔

لیکن روئٹرز نے ایک طبی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ دھماکے میں 28 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں 12 خواتین شامل ہیں اور یہ دھماکہ اس عمارت میں ہوا جہاں گذشتہ حملے کے شکار افراد کا غم منایا جا رہا تھا۔

پیر کو ایک دوسرے واقعے میں باغیوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے ’سعودی عرب کے ظالمانہ حملے اور جرائم کے جواب میں‘ سرحد پار سعودی عرب کے فوجی اڈے کو نشانہ بناتے ہوئے ایک سکڈ میزائل داغا ہے۔

اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو جنگ کی ابتدا کے بعد یہ دوسرا موقع ہوگا جب سکڈ میزائل داغا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سعودی حملوں میں حوثی باغیوں کو نشانہ بنایا گيا ہے

اس سے قبل سکڈ میزائل حملے کی کوشش کو سعودی عرب نے ناکام بنا دیا تھا۔

خیال رہے کہ یمن گذشتہ ستمبر سے شورش کا شکار ہے جب سے حوثی باغیوں نے صنعا پر قبضہ کر لیا اور صدر منصور ہادی کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔

تین مہینے قبل سعودی قیادت والے ایک اتحاد نے باغیوں پر فضائی حملے شروع کر دیے اور اقوام متحدہ کے مطابق اس میں اب تک دو ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں 1400 عام شہری ہیں۔

اسی بارے میں