یونان کے بحران سے چین کیا فائدہ اٹھا سکتا ہے

لی کیچیانگ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چینی وزیرِ اعظم یورپ کے دورے پر ہیں

چین کے وزیرِ اعظم اس وقت یورپ کے دورے پر ہیں جہاں انھوں نے کہا ہے کہ چین یونان کا بحران حل کرنے کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

گذشتہ سال انھوں نے ایتھنز کا دورہ کیا تھا، اس سال برسلز کا۔ یورپی اتحاد چین کا سب سے بڑا تجارتی ساتھی ہے اور وزیرِ اعظم لی کیچیانگ یہاں سال میں دو مرتبہ آتے ہیں۔

اس مرتبہ انھوں نے برسلز میں چین یورپی اتحاد کے اجلاس سے دورہ شروع کیا جس کے بعد وہ بیلجیئم اور فرانس بھی جائیں گے۔

دورے کا وقت اس سے اچھا کیا ہو سکتا تھا۔

جب برسلز میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران چین کے وزیرِ اعظم سے یونان کے متعلق سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا: ’چین تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

لیکن بیجنگ ایتھنز میں ہونے والے واقعات مایوسی، صبر اور چالاکی سے دیکھ رہا ہے۔

چین اپنے ہی ملک میں ترقی کی رفتار کو مستحکم رکھنے کی کوشش میں ہے اور وہاں بازارِ حصص میں حالیہ دنوں میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے، اسے یوروزون کی غیر یقینی صورت حال سے اسے بھی بہت نقصان ہو سکتا ہے۔

وہ یونان کے بنیادی ڈھانچے، یورو بانڈز اور یورپی اتحاد کی معیشت میں سرمایہ لگانے والا ایک اہم ملک ہے۔ بیکر اینڈ مکینزی اور روہڈیم گروپ کی تحقیق کے مطابق 2010 سے 2014 تک چین کے معاہدے دو ارب ڈالر سے بڑھ کر 18 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

یونان اب بیجنگ کو بھی اتنا تنگ کر رہا ہے جتنا وہ برسلز کو کر رہا ہے۔

سب سے پہلے تو پائریئس کی بندرگاہ کی نجکاری کے رکنے کا خدشہ ہوا جس میں چین کا ایک بڑا حصہ ہے۔ اس سال کے آغاز میں چینی میڈیا میں یہ بھی کہا گیا کہ یونان یہ بھول گیا ہے کہ وہ مغربی تہذیب کی جائے پیدائش ہے جو معاہدے کی روح کو بہت اہمیت دیتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یونان یورپ کے لیے چین کا جنوبی دروازہ ہے

یوریشیا کے لیے چین کی ’ایک بیلٹ ایک سڑک‘ کی حکمتِ عملی ہے۔ اس منصوبے کے تحت اسے اپنا بنیادی ڈھانچہ اور اثر و رسوخ زمین اور سمندر کے ذریعے مغرب کی طرف لے کر جانا ہے۔

800 سال پہلے چنگیز خان کے وقت کے بعد ایشیا اور یورپ کو زمینی راستے سے ملانا سب سے بلند نظر منصوبہ ہے۔ اور سمندری راستہ چینی بندرگاہوں اور اڈو کا جال جو اس نے جنوبی چین سے بحیرہ ہند، افریقہ اور بحیرہ روم تک پھیلا رکھا ہے۔

یونان یہاں اہم ہو جاتا ہے۔ یہ چین کا یورپ کے لیے جنوبی دروازہ ہے۔

پیر کو برسلز میں لی کیچیانگ اور ان کے میزبان یورپی کمیشن کے صدر یان کلاڈ ینکر نے اہم منصوبوں کے لیے یورپی انویسٹمنٹ فنڈ میں چینی شمولیت پر جشن منایا۔ اسی دن بیجنگ میں 57 ممالک نے جن میں سبھی اہم یورپی طاقتیں بھی شامل ہیں، ایک تقریب میں حصہ لیا جس میں چین کی سربراہی میں ایک ترقیاتی بینک کو لانچ کیا گیا۔

چین میں بھی یورپ کی طرح ایک کہاوت ہے کہ کسی بھی اچھے بحران کو ضائع نہیں ہونے دیا جانا چاہیے۔

کئی مبصر پہلے ہی یہ کہہ رہے ہیں کہ یونان کے یورو سے باہر نکلنا چین کو ایک ایسا موقع فراہم کر دے گا کہ وہ وہاں اہم اثاثے سستے نرخوں پر خرید لے۔

اور ایتھنز کو پیسہ دینے کے متعلق کیا خیال ہے؟ آج جب لی کیچیانگ بیلجیئم سے فرانس جا رہے ہوں گے تو وہ کیفے کے رومال پر احتیاط سے اس کے متعلق بھی حساب لگا رہے ہوں گے۔

اسی بارے میں