یونان کا اقتصادی بحران: ممکنات کیا ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ملک میں پانچ جولائی کو ہونے والے ریفرینڈم میں یونانی اس بات کا فیصلہ کریں گے آیا انھیں قرض دہندگان کی متعارف کروائی جانے والی تجاویز منظور ہیں یا نہیں

یونان کی معیشت اور یورو زون میں اُس کی موجودگی کا فیصلہ آئندہ چند دنوں میں ہو جائے گا۔

ملک میں پانچ جولائی کو ہونے والے ریفرینڈم میں یونانی اس بات کا فیصلہ کریں گے کیا انھیں قرض دہندگان کی متعارف کروائی جانے والی تجاویز منظور ہیں یا نہیں۔

وزیراعظم ایلکسس تسیپراس چاہتے ہیں کہ عوام اصلاحات کے خلاف فیصلہ دیں کیونکہ یورپی رہنما اس ریفرینڈم کو یورو زون میں رہنے یا نہ رہنے کے حوالے سے عوام کے رائے کے طور پر دیکھیں گے۔ تو پھر حالات کیا رخ اختیار کر سکتے ہیں؟

1- آخری لمحات میں ہونے والا معاہدہ

بحران کا ایک حل یہ بھی ہے کہ یورپی ممالک، آئی ایم ایف اور یورپی سینٹرل بینک کیسی سیاسی نتیجے پر پہنچیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو یونان یورو زون سے خارج نہیں ہو گا اور اپنے قرضے واپس کرتا رہے گا۔

ایسے معاہدے کی صورت میں یونان کو ایک ارب 60 کروڑ یورو کا قرضہ واپس کرنے کے لیے مزید رقم ملے گی اور اس لحاظ سے منگل کی حتمیٰ مدت بہت اہم ہے۔

یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود ژُنکر نے آخری لمحات میں یونان کے وزیراعظم کو جو پیشکش کی ہے وہ صرف ریفرینڈم کے حق میں ووٹ دینے پر ہی قابلِ عمل ہوں گی لیکن ایتھنز کا ابتدائی جواب نفی میں ہے۔

اس مجوزہ معاہدے کے تحت یورو زون کچھ مہلت حاصل کرنے کے لیے بیل آؤٹ معاہدے پر متفق ہو سکتا ہے۔ یونان کو یورو زون میں شامل رکھنے کی قیمت بادل نخواستہ یورو زون کی حکومتوں کو ہی برداشت کرنا ہو گا۔

2- ریفرنڈم کا جواب ’ہاں‘

ممکنہ طور پر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یونان کی عوام ریفرینڈم میں اصلاحات کے حق میں ووٹ دیں تو پھر بھی معاہدے کے بارے میں ایسے ہی سوالات جنم لیتے ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ سریزا جماعت کو سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جائزوں کے مطابق یونانی عوام یورو زون میں شامل رہنے کے حق میں ہیں

بائیں بازو کی جماعتیں قوم پرست اتحاد، آزاد یونانی اور دائیں بازوں کی جماعت گولڈن ڈان کی حمایت کر رہی ہیں۔ حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں ریفرینڈم میں ہاں کے جواب کی حمایت کر رہی ہیں۔

جائزوں کے مطابق یونانی عوام یورو زون میں شامل رہنے کے حق میں ہیں۔

اس صورتحال میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ حکومتی جماعت سریزا پارٹی یورو زون کی اقتصادی پالیسیوں پر متفق ہو جاتی ہے لیکن کیا 18 یورپی ممالک اقتصادی پالیسی پر موثر انداز میں عمل درامد کرنے پر یونان پر اعتماد بھی کریں گے؟

وزیراعظم تسیپراس نے ریفرینڈم میں ’نہیں‘ کی حمایت کر کے پہلے ہی اپنا ساکھ خراب کر دی ہے۔ اگر یہ ریفرینڈم اُن کے خلاف جاتا ہے تو ہو سکتا ہے انھیں استعفیٰ دینا پڑے۔

3-ریفرینڈم میں ’نہیں‘ اور یورو زون سے اخراج

ایسی صورت حال میں یونان میں طویل عرصے تک عدم استحکام رہے گا اور یونان یورو زون سے خارج ہو جائے گا اور ملک میں دوبارہ سے پرانی کرنسی ’ڈریکما‘ رائج ہو جائے گی۔ یونان کی معیشت کی حالت بہت ابتر ہو گی اور ممکنہ طور پر یورپی سینٹرل بینک کو اپنا دروازہ کھولنا پڑے گا یا پھر یونانی بینکوں کو زیادہ رقوم جاری کرنا پڑیں گی۔

ان حالات میں بینک کے کھاتوں داروں کو زیادہ لمبے عرصے تک رقوم نکلوانے پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ یونان کی معیشت کے لیے بہت نقصان دہ ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

حکومت یہ فیصلہ کرے گی کہ بینکوں کو اپنی کرنسی جاری کرے بشمول نقدی اور الیکٹرانک رقوم، تاکہ ملک کا بینکاری نظام چل سکے۔

اگر ڈریکما دوبارہ رائج ہو گیا تو اُس کی قدر بہت تیزی سے گرے گی اور ملک میں مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہو گا۔

4- ریفرینڈم میں ’نہیں‘ اور منظور شدہ اخراج

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یونان گفت و شنید اور معاہدے کے بعد یورو زون سے خارج ہو اور اگر ایسا ہوا تو یہ کم تباہ کن ہو گا لیکن اس سے بینک کے کھاتے داروں کو اپنی رقوم یورو کے بجائے ڈریکما میں تبدیل ہو کر ملے گی۔

ان حالات میں کیا یونان یورپی یونین کا رکن رہے گا؟

یورپی سینٹرل بینک کے وکلا کے مطابق ’کسی رکن ملک کے یورو زون سے خارج ہو کر یورپی یونین کا رکن رہنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ یونان یورپی یونین کی رکنیت برقرار رکھنا چاہتا ہے اور اس ضمن میں کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ یورپی یونین کو اپنے معاہدے بھی تبدیل کرنا پڑیں گے یا پھر وہ قانونی جواز بنا کر یونان کو الجھائے رکھیں گے۔‘

ایسے میں نہ تو کوئی جامع فہرست ہے اور نہ ہی مکمل ممکنات ہیں لیکن کچھ اور ممکنات بھی ہیں۔ یونان جو بھی راستہ اختیار کرے، اس بحران سے نکلنے میں اسے خاصی طویل مدت لگے گی۔

اسی بارے میں