انڈونیشیا میں فوجی طیارہ تباہ، 100 سے زیادہ افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طیارہ دو مکانات اور ایک ہوٹل پر گرا اور اس میں آگ لگ گئی

انڈونیشیا میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ایک مال بردار فوجی طیارہ شمالی سماٹرا میں ایک شہری علاقے میں گر کر تباہ ہونے سے 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ حادثہ منگل کو مدان نامی شہر میں پیش آیا جہاں چار انجن والا ہرکیولیس سی 130 طیارہ رہائشی آبادی پر گر گیا۔

طیارہ ایک ہوٹل اور دو مکانوں پر گرا اور اس میں آگ لگ گئی۔

انڈونیشیا کی فضائیہ کے سربراہ اگوس سپریاٹنا نے جائے وقوع کا دورہ کیا۔ انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا جہاز میں سوار 113 افراد میں سے کسی کے زندہ بچنے کی امید نہیں ہے۔

حادثے کے بعد تقریباً 50 لاشوں کو ہستپال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ بقیہ کی تلاش جاری ہے۔

علاقے میں ایک بڑے امدادی آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

فوج کے ایک ترجمان فواد باسیا نے کہا ہے کہ طیارہ دوپہر 12 بج کر آٹھ منٹ پر فضائیہ کے اڈے سے اڑا تھا اور دو منٹ بعد ہی پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر شہر میں گر کر تباہ ہو گیا۔

مقامی ٹی وی چینلوں کے مطابق طیارہ دو مکانات اور ایک کار پر گرا اور اس میں آگ لگ گئی۔

فوجی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ طیارے پر عملے کے کم از کم 12 افراد سوار تھے۔

انڈونیشیائی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک جائے حادثہ سے 30 لاشیں نکال لی گئی ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں لیکن شدید آگ اور دھوئیں کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو مشکلات درپیش ہیں۔

انڈونیشیا میں ماضی میں بھی فوجی مال بردار طیاروں کے گرنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

سنہ 2009 میں جکارتہ سے مشرقی جاوا جانے والے سی 130 ہرکیولیس طیارے کے حادثے میں 97 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

انڈونیشیا کی فضائیہ ماضی میں کہتی رہی ہے کہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے اسے بہت مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

اسی بارے میں