شیعہ سنی ایٹم بم کی دوڑ؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اوباما انتظامیہ بڑی شدت کے ساتھ کسی قسم کا بھی سفارتی معاہدہ چاہتے ہیں تاکہ تاریخ میں یہ ان کے نام کے ساتھ لکھا جائے

شیعہ ایران اور سنی سعودی عرب کے درمیان واقع خلیجی ریاستوں میں مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان میں سرگرمیاں معدوم پڑ جاتی ہیں۔

دن میں سحری سے لے کر مرطوب شاموں میں افطار تک شدید گرمی رہتی ہے۔

قدیم مسجدوں سے قرآن کی تلاوت کی آوازیں گونجتی ہوئی جدید سکائی لائن تک آتی ہیں، جس سے اس توانائی کی یاددہانی ہوتی ہے جو عبادت گزار صرف کرتے ہیں۔

لیکن اس برس ماحول تھوڑا تبدیل محسوس ہو رہا ہے۔

خلیج یہ بات جانتا ہے کہ امریکی اتحادی عالمی طاقتوں اور ایرانی حکومت کے درمیان جوہری توانائی کے حوالے سے جاری مذاکرات کی ڈیڈلائن قریب آتی جا رہی ہے۔

خطے کی سنی بادشاہتیں اس مسئلے کو اتنے ہی غور سے دیکھ رہی ہیں جتنا کہ اسرائیل، جو اپنے آپ کو ایران کے ممکنہ ایٹم بم کا لازمی ہدف سمجھتا ہے۔

خلیج میں پایا جانے والا خوف تھوڑا پیچیدہ ہے۔

کہا جاتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک شام، یمن اور ایراق میں جاری حالیہ تنازعات کی اصل وجہ اسلام کے دو مرکزی شیعہ اور سنی دھڑوں کے درمیان پائی جانے والی قدیم تقسیم ہے۔

ایران خود کو شیعوں کا محافظ سمجھتا ہے چاہے وہ کہیں بھی ہوں، اور ساتھ ہی انقلاب پھیلانے کو اپنا حق سمجھتا ہے۔

Image caption زیادہ تر خلیجی ریاستیں سنی اکثریتی ہیں اور ان میں شیعہ اقلیت میں ہیں لیکن بحرین میں شیعہ اکثریت میں ہیں اور وہاں سنی بادشاہ کی حکومت ہے

تاہم ایران کے حریف ممالک، جن میں مرکزی نام سعودی عرب کا ہے، سمجھتے ہیں کہ ایران ایک خطرناک اور تخریبی قوت ہے اور ان کا یہ بھی خیال ہے کہ جہاں کہیں بھی سیاسی عدم استحکام ہو وہاں ایران لبنان کے حزب اللہ جیسے پراکسی گروہوں کے ذریعے جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کرتا ہے۔

زیادہ تر خلیجی ریاستوں میں سنی اکثریت میں ہیں اور ان میں شیعہ اقلیتیں ہیں لیکن بحرین میں شیعہ اکثریت میں ہیں اور وہاں سنی بادشاہ کی حکومت ہے۔

بحرین میں سیاسی عدم استحکام کوئی نئی بات نہیں ہے، اور اس کے لیے یہ خبریں کافی ہیں کہ شیعہ اکثریت کے ارکان کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے اور جیلوں میں ان پر تشدد کیا جاتا ہے، تاہم حکام ان خبروں کو مسترد کرتے ہیں۔

ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ بحرین کسی زمانے میں ایرانی سلطنت کا حصہ رہا ہے، اور وہاں کی کچھ شیعہ آبادی کی جڑیں ایران میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے بارے میں بحرین کے خیالات میں کافی تشویش پائی جاتی ہے۔

بحرین کے چیف آف پولیس میجر جنرل طارق الحسن نے مجھے حالیہ برسوں میں دشت گردوں کے خلاف کیے گئے آپریشنوں میں ملنے والے دھماکہ خیز مواد، گولہ بارود اور بندوقیں دکھائی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران اس سلطنت میں شدت پسندوں کی پشت پناہی کر رہا ہے اور انھیں اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔

طارق الحسن کا کہنا ہے کہ ’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایران کی باالواسطہ اور بلاواسطہ مداخلت کے ثبوت موجود ہیں۔ ہمارے پاس اس بات کے ثبوت بھی موجود ہیں کہ بعض ایرانی عناصر بحرین میں شدت پسندوں کی فنڈنگ اور تربیت کرتا رہا ہے۔‘

ایران کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات کا نتیجہ چاہے کچھ بھی نکلے، خلیجی ریاستوں کو اس کے منفی اثرات ہی دیکھنے ہوں گے۔

اگر کوئی بھی معاہدہ طے نہیں پاتا تو ایران اس خطے میں سنی دنیا میں اپنی پراکسی طاقتوں کی حمایت بڑھا دے گا، جس کا مطلب صرف حزب اللہ ہی نہیں بلکہ ایراق میں بڑی تعداد میں مسلح اور تربیت یافتہ شیعہ ملیشیا بھی ہیں۔

دوسری جانب اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے اور ایران پر سے اقتصادی پابندیاں اٹھا لی جاتی ہیں تو اپنے نیم فوجی دستوں پر خرچ کرنے کے لیے ایران کے پاس پہلے زیادہ پیسہ ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک عام تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ کسی حد تک ایسا معاہدہ طے پانے کا امکان موجود ہے جس میں ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر رضامند ہو جائے گا

ماضی میں اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات پر عراق اور شام میں کیے جانے والے فضائی حملوں کی طرز کے حملے کرنے کے لیے سوچ بچار کرتا رہا ہے۔

اسرائیل کے پاس اپنے جوہری ہتھیار موجود ہیں تاہم عوامی سطح پر اسے نہ ماننے کی اس کی سخت پالیسی ہے اور اس حوالے سے کوئی بات بھی نہیں کرنا چاہتا۔

خلیجی ریاستوں کے پاس ایسا کوئی بھی بم نہیں ہے لیکن میں نے جب بحرین کے وزیر خارجہ شیخ خالد بن احمد الخلیفہ کے ساتھ بات کی تو انھوں نے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو خطرناک قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بلاروک ٹوک جوہری پروگراموں کی مدد سے جوہری ہتھیار بنائے جائیں گے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس سے اسلحہ بنانے کی دوڑ کا آغاز ہو جائے گا۔ صرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ اس خطے کے کئی دوسری ممالک بھی انھیں حاصل کرنا چاہیں گے۔‘

یہ تو واضح ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ہر کوئی اور شاید بحرین میں بھی ہر کوئی حالات کو ایک نظر سے نہیں دیکھتا۔

بحرین کی سب سے بڑی سیاسی شیعہ تحریک الوفاق کے اہم رکن ڈاکٹر جاسم حسین کا کہنا ہے کہ کسی بھی غیر شیعہ کے لیے ایران کو یہ کہہ کر بدنام کرنا بہت آسان ہے کہ اس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کو بہت سے خطرات درپیش ہیں۔

جاسم حسین کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران کا کردار اس طرح سے بیان کرنا انتہائی غیر مناسب ہے۔ میرے خیال میں کسی بھی ملک کو اس طرح سے خطرہ اور غیر متوازن قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ اس خطے کو میرے مطابق سب سے بڑا مسئلہ اور خطرہ دولت اسلامیہ سے درپیش ہے۔‘

ایک عام تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ کسی حد تک ایسا معاہدہ طے پانے کا امکان موجود ہے جس میں ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر رضامند ہو جائے گا تاکہ اس پر سے پابندیاں ہٹائی جا سکیں۔

مشرق وسطیٰ میں جب لوگ آف دی ریکارڈ بات کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس بات کی وجہ سے خاصے خوفزدہ ہیں کہ امریکہ بھی یہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ اوباما انتظامیہ بڑی شدت کے ساتھ کسی قسم کا بھی سفارتی معاہدہ چاہتے ہیں تاکہ تاریخ میں یہ ان کے نام کے ساتھ لکھا جائے۔

اس سال رمضان میں اپنے عروج پر پہنچنے والے ان مذاکرات میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے اور آئندہ سال رمضان کے آنے پر یہ دیکھنا کافی دلچسپ ہو گا کہ چیزیں مستحکم ہو کر کیسی لگیں گی۔

اسی بارے میں