’دولتِ اسلامیہ عالمی سلامتی کو سب سے بڑا خطرہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بیشتر ماہرین کا کہنا ہے کہ سرعام ایک جماعت سے دوسری جماعت کے لیے حمایت تبدیل کرنے والے رہنماؤں میں زیادہ تر غیر معروف افراد ہیں

روس کی سلامتی کونسل کے سربراہ نکولائی پتروشیف نے دولت اسلامیہ کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے اور بظاہر یہ خطرہ روسی سرحدوں کے قریب آتا جا رہا ہے۔

شدت پسند گروہ دولتِ اسلامیہ نے روس کے مسلم اکثریتی علاقے شمالی قفقاز میں اپنا صوبہ قائم ہونے کا اعلان کر رکھا ہے، جس کا مطلب ہے کہ تنظیم کا علاقے میں انتہا پسند تنظیموں پر اثر بڑھ رہا ہے۔

روس کی سلامتی کونسل کے سربراہ کا بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب کسی نامعلوم شخص نے قفقاز کے چار علاقوں میں شدت پسندوں کی جانب سے ایک پیغام انٹرنیٹ پر جاری کیا ہے جس میں انھوں نے دولت اسلامیہ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس خطے میں پہلے سے موجود القاعدہ سے منسلک کالعدم تنظیم قفقاز امارات میں دولتِ اسلامیہ کے لیے حمایت کتنی ہے۔ قفقاز امارات اس علاقے میں ایک انتہائی پسند اسلامی ریاست کے قیام کے لیے کوشاں رہی ہے۔

قفقاز امارات کے سربراہ نے کوئی جوابی بیان جاری نہیں کیا۔

دوسری جانب بیشتر ماہرین کا کہنا ہے کہ سرعام ایک جماعت سے دوسری جماعت کے لیے حمایت تبدیل کرنے والے رہنماؤں میں زیادہ تر غیر معروف افراد ہیں۔

90 کی دہائی میں چیچنیا کی علیحدگی پسند تحریک سے اٹھنے، قفقاز امارات نے 2010 میں ماسکو میں بم دھماکے سمیت متعدد دہشت گرد حملے کیے ہیں۔ یاد رہے کہ تنظیم کی توجہ کا مرکز روسی سکیورٹی حکام ہی رہے ہیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دولتِ اسلامیہ سے منسلک ہونے کے بعد تنظیم زیادہ متحرک اور تباہ کن نہ ہو جائے۔

خبر رساں ادارے کوکس ناٹ کے گریگوری شویدوف کا کہنا ہے کہ ’میرا نہیں خیال کہ وہ صرف شمالی قفقاز کے ایک حصے میں جہادیوں کے زیرِ اثر ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ اس خطے کو روس کے اندر دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال کرکے بہت زیادہ موثر ہو جائیں گے۔

یہی وجہ ہے کہ موجودہ حالات کے باوجود جمعرات کو صدر اوباما اور صدر پوتن کے لیے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس کال کے دوران صرف دولتِ اسلامیہ پر بات ہوئی۔ فروری میں دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت صرف یوکرین تک محدود تھی۔

سابق روسی وزیرِ خارجہ ایگور ایوانوف نے بی بی سی کو بتایا: ’ظاہر ہے کہ یہ ہمارے باہمی مفاد میں ہے کہ ہم مغربی دنیا کے ساتھ تعاون کریں البتہ ہم دیگر معاملات پر منقسم ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ جدید سکیورٹی خطرات عالمی نوعیت کے ہیں اور ایک ریاست ان سے تنہا نہیں لڑ سکتی۔

ادھر چیچنیا کے سربراہ رمضان کادیروف نے اس تاثر کو رد کیا کہ دولتِ اسلامیہ نے صوبہ قائم کر لیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم ان شیطانوں اور ڈاکوؤں کو بے رحم انداز میں ختم کر دیں گے۔‘

ماضی میں رمضان کادیروف پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ مزید براں ان کا بے رحم انداز دیگر تنظیموں کے خلاف تو کامیاب رہا ہو گا تاہم دولتِ اسلامیہ کے خلاف ایسی حکمتِ عملی مہنگی پڑ سکتی ہے۔

اسی بارے میں