سعودی شہزادے کا 32 ارب ڈالر خیرات کرنے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شہزادہ طلال کے پاس اس وقت کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے اور کنگڈم ہولڈنگ کمپنی کے سربراہ ہیں۔

سعودی شاہی خاندان کے ارب پتی شہزادے الولید بن طلال نے اپنی تمام 32 ارب ڈالر کی جائیداد خیراتی کاموں کے لیے وقف کرنے کا اعلان کیا ہے۔

60 سالہ سعودی شہزادے کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے۔

’فوربز نے میری دولت کم بتائی ہے‘

پرنس طلال کے مطابق انھوں نے مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس کے 1997 میں قائم ہونے والے فلاحی ادارے ’بل گیٹس فاؤنڈیشن‘ سے متاثر ہو کر یہ فیصلہ کیا ہے۔

’رقم ثقافتی طور پر ایک دوسرے کو سمجھنے کی سرگرمیوں کو بڑھانے، خواتین کو زیادہ بااختیار بنانے اور آفات کے دوران امدادی سرگرمیوں میں استعمال کی جائے گی۔‘

خیال رہے کہ پانچ سال قبل ارب پتی کاروباری شخصیت وارن بفٹ اور مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے فلاحی سرگرمیوں کے لیے اپنی دولت وقف کرنے کی مہم کا آغاز کیا تھا۔

32 ارب ڈالر کی رقم شہزادے طلال کے پہلے سے قائم فلاحی ادارے ’Alwaleed Philanthropies‘ یعنی الولید فلاح انسانیت کو جائے گی اور وہ اسے پہلے ہی ساڑھے تین ارب ڈالر کی امداد دے چکے ہیں۔

سعودی شہزادے کے پاس اس وقت کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے اور کنگڈم ہولڈنگ کمپنی کے سربراہ ہیں۔

اس کمپنی کے کئی ہوٹلوں سمیت، میڈیا، ریئل سٹیٹ، سٹی گروپ، ٹوئٹر اور اپیل جیسی نمایاں کمپنیوں میں حصہ داری ہے۔

سعودی شہزادے الولید بن طلال نے جائیداد خیرات کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ذاتی جائیداد خیرات کر رہے ہیں اور یہ رقم کنگڈم ہولڈنگ کمپنی سے الگ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فلاحی ادارہ میری ذاتی ذمہ داری ہے جو میں نے تین دہائیاں پہلے قائم کیا تھا اور یہ میرے اسلامی عقیدے کا لازمی حصہ ہے۔‘

’امید کرتا ہوں کہ اس تحفے سےایک دوسرے کو ثقافتی طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی، برادریوں کو ترقی دی جا سکے گی، خواتین کو بااختیار بنایا جا سکے گا، نوجوانوں کی صلاحیتوں میں اٰضافہ کیا جائے گا، آفات کے دوران اشد ضروری امداد فراہم کی جا سکے گی اور ایسی دنیا بنائی جا سکے گی جو پہلے سے زیادہ برداشت اور ایک دوسرے کو قبول کرے۔‘

انھوں نے کہا ہے کہ خیراتی رقم کئی برسوں کے دوران منتقل کی جائے گی اور اپنی سربراہی میں قائم بورڈ آف ٹرسٹیز کے ذریعے اس کی نگرانی کی جائے گی۔

اسی بارے میں