درخت بچانے کے لیے موٹروے کی مخالفت

تصویر کے کاپی رائٹ RS
Image caption شاہ بلوط کے اس پیڑ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ 600 سال پرانا ہے

سربیا میں سینکڑوں سال پرانے ایک تاریخی شاہ بلوط کے درخت پر تنازعے کی وجہ سے ایک موٹروے کی تعمیر کا پروجیکٹ روک دیا گیا ہے۔

اس درخت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ 600 سال پرانا ہے اور بالکن انسائٹ ویب سائٹ کے مطابق یہ پیڑ سیویناک کے مغربی قصبے میں واقع ہے اور یہ نئی قومی شاہراہ کوریڈور 11 کے راستے میں آ گیا ہے۔

یہ سڑک مکمل ہونے کے بعد سربیا کے دارالحکومت بلغراد کو مونٹینگرو کے ساحل سے جوڑ دے گی۔

اطلاعات کے مطابق مقامی افراد اس پیڑ کے کاٹے جانے کے خلاف ہیں۔ بعض اسے مقدس کہتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ جو کوئی بھی اسے ختم کرنے کی کوشش کرے گا اس پر لعنت برسے گي۔

ایک مقامی شخص ملان پیٹرووک نے بلک ویب سائٹ کو بتایا: ’خدا کی قسم میں اس کے پاس کسی کھودنے والوں کو جانے نہیں دوں گا۔‘

ایک عرصے سے مقامی افراد راستے کو تبدیل کیے جانے کے بارے میں تحریک چلا رہے ہیں۔

سنہ 2013 میں اس پیڑ کو بچانے کے لیے ایک وسیع پروگرام پیش کیا گیا تھا جس میں اس کی جڑوں کو سٹیل کی تعمیر کے ذریعے محفوظ کر دیے جانے کی تجویز پیش کی گئی تھی تاکہ ٹریفک اس پر اثرانداز نہ ہو سکے۔ لیکن اس ضمن میں کچھ نہ ہوا۔

اب سڑک کی تعمیر اس جگہ تک پہنچ گئی ہے جہاں پیڑ ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے پاس سڑک کا راستہ بدلنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔

انفراسٹرکچر کی وزیر زورانا میہاجلووک کا کہنا ہے کہ ’سربیا کوئی امیر ملک نہیں ہے جو کسی شاہراہ کے راستے میں ایک پیڑ کو بچانے کے لیے تبدیلی کرے۔‘

اس کے برعکس وزیر نے اس تجویز پر رضامندی ظاہر کی ہے جو مقامی ماحولیات دوست افراد کی جانب سے دی گئی ہے کہ اس کی ایک شاخ دوسری جگہ لگائی جائے تاکہ یہ پیڑ دوسری جگہ پر زندہ رہے۔

لیکن مقامی افراد اس نظریے سے متفق نہیں ہیں اور انھوں نے میہاجلووک کو چیلنج کیا ہے کہ اگر ان میں ہمت ہے تو وہ خود آ کر پیڑ کو کاٹ گرائیں۔

اسی بارے میں