بوسنیا: دور جدید کے جہادیوں کی جائے پیدائش

تصویر کے کاپی رائٹ

90 کی دہائی میں بوسنیا ہرزوگوینا میں جو کچھ ہوا جو آج بھی لوگوں کو متاثر کرتا ہے اور اس پہلو کو بھی واضح کرتا ہے کہ شام اور عراق میں سرگرم دولت اسلامیہ نامی شدت پسند تنظیم کے ہمراہ لڑنے والے یورپی ممالک کے جہادیوں میں سے بوسنیائی باشندوں کی تعداد زیادہ کیوں ہے۔

ایک اندازے کے مطابق 300 بوسنیائی باشندے دولت اسلامیہ کی صفوں میں شامل ہیں اور ان کی تعداد دولت اسلامیہ کے ہمراہ لڑائی میں حصہ لینے والے غیر ملکی جہادیوں میں آبادی کے تناسب سے سب سے زیادہ ہے۔

1992 میں بوسنیا میں عرب رضاکاروں پر مشتمل ’مجاہدین بٹالین‘ کا قیام ایک اہم سنگ میل تھا۔ حالات اب بدل چکے ہیں اور اب بوسنیائی باشندے عرب ملکوں میں جہاد کے لیے جا رہے ہیں۔

بوسنیا کی جنگ میں حصہ لینے والے عرب رضاکار ایمن دین کا کہنا ہے کہ اب مغرب اور اسلام میں جنگ جاری ہے۔ بوسنیا نے دور جدید کے جہادیوں کو بیانیہ مہیا کیا ہے۔ یہ ان کی پہلی جائے پیدائش ہے۔‘

عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ سوویت یونین کی افغانستان میں موجودگی نے دور جدید کے نظریہ جہاد کو جنم دیا۔ لیکن ایمن دین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مغرب اور سلفی جہادی ایک دوسرے کے اتحادی تھے لیکن بوسنیا میں وہ ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔

1992 میں چند درجن مسلمان جنگجو اپنے ہم مذہبوں کو سرب فوجیوں سے بچانے کے لیے بوسنیا پہنچے۔ لیکن جب 1993 میں یہ لڑائی سربوں، بوسنیائی اور کروشیائی عیسائیوں کے مابین چھڑ گئی تب غیر ملکی جہادیوں کی تعداد سینکڑوں تک پہنچ گئی اور وہ غیر مسلمانوں سے نبرد آزما ہو گئے۔

اپریل 1993 میں جب کروشیائی ملیشیا نے اہمچی میں 120 مسلمانوں کو قتل کر دیا تو عرب ممالک سے آئے ہوئے مجاہدین نے کئی جوابی کارروائیاں کیں۔ انھوں نے کوکا گورا میں عیسائی عبادت گاہ سے 200 کروشیائی باشندوں کو نکال دیا اور پھر چرچ میں داخل ہو کر عیسائی مذہبی نشانیوں کی نہ صرف بے حرمتی کی بلکہ اس کی عکس بندی بھی کی۔

بوسنیا میں تعینات اقوام متحدہ کی امن فوج میں شریک برطانوی فوجیوں کا کوکا گورا میں غیر ملکی ’مجاہدین‘ سے پالا پڑا۔ برطانوی کمپنی کمانڈنٹ وان کینٹ پائن کا کہنا ہے کہ یہ غیر ملکی جنگجو مقامی بوسنیائی جنگجوؤں سے کہیں زیادہ جارحانہ رویہ رکھتے تھے اور بار بار اقوام متحدہ کی افواج پر حملے کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

گوکا گورا کے قریبی قصبے تراونک، جہاں مسلمانوں، کروشیائی اور سربوں کی آبادی کا تناسب تقریباً برابر تھا، غیر ملکی جنگجوؤں نے اس پورے قصبے کے ہزاروں مکینوں کو باہر نکال دیا اور جو بچ گئے ان پر شریعت نافذ کرنے کی کوشش کی۔

غیر ملکی جنگجو اغو کی کئی وارداتوں میں بھی ملوث ہوئے اور ایک زیر حراست شخص ڈریگن پاپوچ کا سرقلم کر کے دوسرے زیرحراست لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ اس بریدہ سر کو بوسہ دیں۔ ڈریکن پاپوچ کا مقدمہ بالآخر عالمی عدالت جا پہنچا جس کی وجہ سے اس مقدمے کے تمام حقائق اکٹھے کر لیے گئے ہیں لیکن مجاہد بٹالین پر اس کے علاوہ بھی اغوا کی کئی وارداتوں میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے۔

سرب اور کروشیائی کے ذرائع ابلاغ کے دعوؤں کے برعکس بوسنیائی جنگ میں شریک غیر ملکی جنگجوؤں کی تعداد سراجیوو حکومت کے زیر اثر فوجیوں کی تعداد کا ایک فیصد بھی کم تھا۔ بوسنیائی جنگ کے ابتدائی ادوار سے مجاہدین نے مقامی لوگوں کو بھی اپنی صفوں میں شامل کرنے کی کوشش کی اور 1995 میں جنگ کے اختتام تک ’مجاہدین بٹالین‘ 15 سو فوجیوں پر مشتمل تھی۔

سراجیو کی حکومت پر 1993 میں غیر ملکی جہادیوں کی موجودگی کے منفی اثرات آشکار ہونا شروع ہو چکے تھے اور اس نے ان منفی اثرات پر قابو پانے کے لیے مجاہدین بٹالین کو باقاعدہ فوج میں شامل کر لیا گیا۔

تھری کور کے اس وقت کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل انور حاجی حسنووچ نے غیر ملکی جنگجوؤں کے منفی اثرات کو بھاپنتے ہوئے اپنی اعلیٰ فوجی قیادت کو ان خطرات کے بارے میں تحریری طور آگاہ کیا۔ بریگیڈیئر انور حاجی حسنووچ کو اپنے زیر کمان جہادیوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے ہیگ میں جنگی جرائم کی عالمی عدالت میں الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ جنگی جرائم کی عالمی عدالت میں بریگیڈیئر حاجی حسنووچ کے خلاف الزامات ثابت نہ ہو سکے۔

بریگیڈیئر جنرل حاجی حسنووچ نے اپنے فوجی سربراہوں کو لکھےگئے ایک خفیہ خط میں کہا: ’میری رائے میں ان (مجاہدین) کے پیچھے کچھ سیاستدان اور مذہبی رہنما ہیں۔‘

حاجی حسنووچ اب بوسنیائی جنگ پر غور کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’میرے خیال میں انھوں (جہادیوں) نے بوسنیا کی کوئی مدد نہیں، بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ انھوں نے ہمیں نقصان پہنچایا۔‘

حاجی حسنووچ نے 1993 میں اپنے خفیہ خط میں جن سیاستدانوں کا ذکر کیا تھا، ان کا اشارہ اس وقت کے بوسنیا کے صدر عزت باگووچ کی طرف تھا جو امیر عرب حامیوں کو خوش رکھنے کے لیے غیر ملکی جنگجوؤں کا خیر مقدم کر رہے تھے۔

ڈارئٹن امن معاہدے کی شرائط میں غیر ملکی جنگجوؤں کو بوسنیا سے نکلنا تھا اور اسی امن معاہدے کے تحت بوسنیا کی جنگ ختم ہوئی۔

جس دن غیر ملکی جنگجوؤں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیاگیا، اس دن کو یاد کرتے ہوئے عرب جہادی ایمن دین کہتے ہیں: ’اس روز بڑے آنسو بہے، بڑے نعرے لگے۔ اس کی وجہ یہ تھی وہاں جو بھی وہاں گیا تھا کہ وہ شہادت کا متمنی تھا۔اب ان سے شہادت کا موقع چھن رہا تھا۔‘

ان سینکڑوں غیر ملکی جہادیوں نے پاکستان، چیچنیا اور افغانستان کا رخ کیا۔ بوسنیا بدر ہونے والے جہادیوں میں نائن الیون کے دو ہائی جیکروں سمیت صحافی ڈینیئل پرل کے قاتل بھی شامل تھے۔

تین سو سے زیادہ غیر ملکی جنگجو بوسنیا کی سرزمین میں دفنائےگئے۔ کئی درجن عرب جنہوں نے مقامی خواتین سے شادیاں کر چکے تھے وہ واپس نہیں جانا چاہتے تھے اور اپنی بیویوں کے توسط سے بوسنیائی کی شہریت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اب بھی سابق صدر عزت باگووچ کی جماعت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بوسنیائی باشندوں کو عرب ممالک میں جا کر لڑنے سے روکنے میں گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے۔ لیکن حقیقت میں سراجیوو کی حکومت نے مذہب کے نام بیرون ملک میں جا کر جنگ میں حصہ لینے کےلیے لوگوں کو بھرتی کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

لیکن حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے بوسنیا میں رہائش پذیر عرب جہادیوں کے خطرے سے نمٹنے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی جس کی وجہ سے اب وہاں مقامی سلفی مسلمانوں کی ایک کھیپ تیار ہو چکی ہے۔ ایسے ہی مقامی جہادیوں میں ایک فکرت ہادچ بھی ہیں۔

فکرت ہادچ نے 1994 میں مجاہدین بٹالین میں شمولیت اختیار کی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد فکرت ہادچ ایک مکینک اور ڈرائیور کے طور پر کام کرتے رہے جس کے بعد انھوں نے شام میں بشار الاسد کے خلاف لڑنے کے لیے جانے شام جانے کا فیصلہ کیا۔

ہادچ کا اصرار ہے کہ وہ دولت اسلامیہ نامی جہادی تنظیم کا حصہ نہیں ہیں اور ان کی کارروائیوں کو برا سمجھتے ہیں۔ ہادچ بتاتے ہیں کہ وہ گذشتہ برس شام سے واپسی سے پہلے کچھ ایسے بوسنیائی جہادیوں سے ملے تھے جنھیں بعد دولت اسلامیہ کی ویڈیو میں دیکھا گیا۔

سراجیوو میں سلفی مسجد کے امام بلال بوسنچ بھی ہیں جو اس جہادی بٹالین کا حصہ رہ چکے ہیں۔ بلال بوسنچ اس وقت زیر حراست ہیں۔ ان پر دولت اسلامیہ کے لیے جنگجو بھرتی کرنے کا الزام کےتحت مقدمہ چل سکتا ہے۔

اب جب دولت اسلامیہ بلقان میں خلافت کا نیا محاذ کھولنے کی کوشش کر رہی ہے، خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ بوسنیا اس کا نشانہ بن سکتا ہے کیونکہ جنگ کے خاتمے کے دو عشرے بعد بھی بوسنیا آج بھی ایک منقسم اور کمزور ریاست ہے۔

اسی بارے میں