میں انتہا پسندانہ خیالات سے کیسے دور ہوا؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مغرب میں کئی مسلمان نوجوان سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ نسل پرستانہ سلوک کیا جاتا ہے

’آرہس ماڈل‘ نامی پروگرام ڈنمارک کے دوسرے بڑے شہر میں نوجوان لوگوں کو القاعدہ یا دولتِ اسلامیہ میں شمولیت سے روکنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

2013 میں 30 نوجوان شام گئے تھے لیکن اس سال ابھی تک دو ہی جا سکے ہیں۔ اور 2014 میں صرف ایک۔ احمد ان نوجوانوں میں سے ہے جو جہاد میں حصہ لینے کے لیے تیار تھا لیکن پھر اس نے اپنا ارادہ بدل لیا۔

ہم شہر کے سرے پر ایک بڑے، شوخ اور مصروف ترک کیفے میں ملے لیکن ہم زیادہ دیر تک وہاں نہیں رہے۔ وہاں دو نوجوان تھے، ہم انھیں احمد اور محمود کہتے ہیں۔ محمود پھر ہمیں ایک بڑے ہوٹل میں لے جاتے ہیں، جہاں ہم ایک پرسکون کمرے میں بیٹھتے ہیں۔

احمد صومالیہ میں پیدا ہونے والے ایک 25 سالہ نوجوان ہیں، لیکن وہ چھ سال کی عمر سے ڈنمارک میں ہی رہ رہے ہیں۔

احمد اپنی کہانی بتاتے ہیں۔ وہ آرہس کے نواح میں پلنے بڑھنے والے عام بچوں کی طرح تھے، جسے فٹبال کھیلنا بہت پسند تھا، جو سکول میں اچھا تھا، اور بڑی تیزی سے ڈینش زبان سیکھ رہا تھا۔ ’میرے لیے اس وقت سب ہی اچھا تھا۔‘

پھر جب وہ 12 سال سے اوپر کے ہوئے تو ان کے والد نے کہا کہ وہ ان کو لے کر حج کے لیے جا رہے ہیں۔

’میرے والد کے اہم تھا کہ وہ مجھے زیادہ دینی تعلیم دلوائیں۔

’مجھے مذہب کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھا۔ ایسے تھا جیسے میں اس صومالیہ چھوڑ آیا ہوں۔ لیکن میرے والد نے کہا کہ تم مسلمان ہو، تمہارا مسلمان نام ہے۔ تمہیں اپنی تاریخ، اپنا پس منظر اور اپنے مذہب کے متعلق پتہ ہونا چاہیے۔

سو ان کا سارا خاندان مکہ چلے گیا اور احمد کو یاد ہے کہ وہ جب ڈنمارک واپس آئے تو بڑے مطمئن تھے۔

’جب میں واپس آیا تو میں خوش تھا اور میں مذہبی شناخت کے ساتھ ایک نیا انسان تھا۔ میں نے دنیا کو مختلف نگاہ سے دیکھنا شروع کیا۔ میں نے دیکھا کہ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ خدا کے ساتھ کوئی رابطہ رکھے، میں نے دیکھا کہ مرنے کے بعد بھی ایک زندگی ہے۔‘

لیکن احمد کے نئے مذہب کی وجہ سے اسے سکول میں مسائل ہوئے۔ اس نے جینز اور ٹی شرٹ پہننا ترک کر دیا اس کی بجائے روایتی عرب لباس پہننا شروع کر دیا۔ جب بھی مذہب کے متعلق کوئی بات ہوتی تو وہ اس کا دفاع کرنا شروع ہو جاتے یا اس پر بحث شروع کر دیتے۔ وہ اب تسلیم کرتے ہیں کہ وہ صورتِ حال پر بہتر طریقے سے قابو پا سکتے تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے جارحانہ ردِ عمل اختیار کیا کیوں انھیں لگا کہ ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے مذہب کا دفاع کریں۔

آرہس کے نواح میں ڈنمارک کے سب سے پسماندہ علاقے بھی ہیں۔ ان کے سکول میں بچے ان کا مذاق اڑاتے۔

’وہ مجھے کہتے تم اپنی عورتوں کو سنگسار کرتے ہو، تم ان لوگوں کو کوڑے مارتے ہو جو آزادانہ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ اور مجھے محسوس ہوا کہ میں نے اپنے مذہب کا دفاع کرنا ہے، لیکن مجھے نہیں پتہ تھا کہ کس طرح بحث کروں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آرہس کے نواح میں ڈنمارک کے سب سے پسماندہ علاقے بھی ہیں

ایک دن ان کے والد نے انھیں فون کیا اور پوچھا کہ ’تم کہاں ہوں؟ تم نے کیا کیا ہے؟‘

ان کے والد نے بتایا کہ پولیس ان کے دروازے پر آئی تھی اور وہ انھیں ڈھونڈھ رہی تھی۔

’جب میں گھر آیا تو میرے والد صدمے اور غصے میں تھے۔ انھیں نے مجھے کہا کہ میں اگلے دن پولیس سٹیشن جاؤں اور ان سے پوچھوں وہ کیا چاہتے ہیں۔‘

اگلے دن احمد پولیس سٹیشن گیا اور اسے یہ سن کر بڑی حیرانی ہوئی کہ سکول کے پرنسپل نے پولیس کے پاس ان کی اطلاع دی تھی۔

ان کو بتایا گیا کہ وہ یہاں اس لیے ہیں کہ ’آپ کے ہم جماعت آپ سے ڈرتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ آپ انتہا پسند ہیں اور آپ خطرناک کام کرنے کے اہل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ آپ سعودی عرب میں مذہبی انتہاپسند ہو گئے تھے۔‘

احمد یہ بتاتے ہوئے مسکرا رہے تھے۔ لیکن یہ اس وقت مضحکہ خیز نہ تھا۔ انھیں لگا کہ انھیں اٹھا کر اگلی پرواز میں گوانتاناموبے میں بھیج دیا جائے گا۔ ’میں صدمے کی حالت میں تھا اور میرے پاس اپنا دفاع کرنے کے لیے کوئی الفاظ نہیں تھے۔‘

پولیس نے مجھے کہا کہ وہ میرے گھر کی تلاشی لینا چاہتے ہیں اور انھیں میری ای میل اور دیگر سوشل میڈیا کے پاس ورڈز کی بھی ضرورت پڑے گی۔

’میں نے انھیں سب کچھ دے دیا اور انھوں نے میرے گھر کی تلاشی لی جسے دیکھنا انتہائی تکلیف دہ تھا۔ جب وہ گئے تو میں صدمے اور غصے میں تھا۔‘

یہ سب کچھ سکول کی ٹرم کے ہفتے میں ہوا اور وہ امتحان نہ دے سکے۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ سکول نے مجھے امتحان میں لیٹ بیٹھنے کی اجازت نہیں دی۔

انھوں نے کہا: ’انھوں نے مجھے سیدھا چہرے پر ضرب لگائی اور ایسا احساس دیا کہ پورا معاشرہ ہی نسل پرستانہ ہے۔ وہ مجھے دہشت گرد کہتے ہیں، میں اگر چاہوں تو انھیں ضروری دہشت گرد مہیا کروں گا اگر وہ چاہتے ہیں تو۔‘

احمد نے پھر یہ سب کچھ مسجد میں اپنے دوستوں کو بتایا۔ وہ ہمدرد تھے اور انھوں نے احمد کو اپنے گھر بلایا۔ وہاں مسلمانوں اور مسلمان ممالک کے ساتھ مغرب نے جو ریاکارانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے اس پر بہت لمبی بحثیں ہوئیں۔ انھوں نے آن لائن کئی جہادی ویڈیوز دیکھیں۔

آخر کار کوئی احمد کو ایک طرف لے گیا اور مشورہ دیا کہ اگر وہ اسلام کے متعلق زیادہ جاننا چاہتے ہیں تو انھیں پاکستان جانا چاہیے۔ ’اس نے مجھے وہاں ایک سلول کے متعلق بتایا جہاں اچھے اساتذہ ہیں اور وہ بہتر اسلامی تعلیم دیتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نوجوان پولیس کی پوچھ گچھ سے تنگ آ جاتے ہیں

احمد کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنے والد کو بتایا کہ ان کا کیا ارادہ ہے۔ ان کے والد نے کہا کہ وہ انھیں نہیں روکیں گے لیکن ساتھ ہی یہ مشورہ دیا کہ پہلے سکول کی تعلیم مکمل کر لیں۔ اس کے بعد ایک فون آیا۔ یہ پولیس کا فون تھا اور وہ احمد کو کافی کے کپ پر مدعو کر رہے تھے۔

’میرے اندر سے کوئی آواز مجھے کہہ رہی تھی کہ یہ لوگ میرا پیچھا نہیں چھوڑیں گے، سو کیوں نہ انھیں روبرو ملو اور کہنا چاہتے ہو کہو۔ سو میں چلا گیا۔ انھوں نے مجھے کافی پلائی اور باتیں کیں۔ میں غصے میں تھا۔ میں نے کہا کہ کیا تم جانتے ہو کہ میں پاکستان جا رہا ہوں۔ یہ کوئی غیر قانونی بات نہیں ہے۔ میں جو میرا دل چاہے کروں گا۔ جب میرے پاس پیسہ آئے گا، جب میں ہائی سکول ختم کر لوں گا، میں وہاں جاؤں گا۔‘

لیکن پولیس کے پاس ایک پیش کش تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ میں ایک اور مسلمان سے ملوں۔ جو اپنے احساسات اور غصے کے متعلق میرے ساتھ اس طرح بات کر سکتا ہے جس طرح پولیس نہیں کر سکتی۔

اس طرح ان کی ملاقات محمود سے ہوئی۔ اور اس طرح ان کی اس لفط سے شناسائی ہوئی جیسے دنیا آرہس ماڈل کہتی ہے۔

احمد کہتے ہیں کہ انھیں ریلیکس ہونے میں کئی مہینے لگے۔ شروع شروع میں وہ جب بھی محمود سے ملتے تو ان کی جامہ تلاشی لیتے کیونکہ وہ جاننا چاہتے تھے کہ کہیں محمود نے مائیکروفون تو نہیں چھپایا ہوا۔ ان کے درمیان بڑی گرما گرم بحث ہوتی اور انھیں اس بات پر بہت مایوسی ہوتی کہ محمود کے پاس تقریباً ہر بات کا منطقی جواب تھا۔

’انھوں نے بڑے منطقی طریقے سے مجھے سمجھایا کہ جہاں میں جا رہا ہوں وہ خطرناک جگہ ہے۔‘

محمود نے کہا: ’ہاں تمہارے ساتھ برا سلوک کیا گیا، یہ ٹھیک بات ہے، لیکن اگر تم پاکستان گئے تو تم اپنی زندگی تباہ کر لو گے۔‘

احمد نے کہا کہ یہ بات مجھے سمجھ آ گئی۔ انھیں یہ نہیں کہا گیا کہ وہ مسلمان نہیں بن سکتے بلکہ یہ بتایا گیا کہ وہ اچھے مسلمان بنیں جو کسی معصوم شخص کو نقصان نہیں پہنچاتا۔

احمد ہائی سکول مکمل کرنے کے بعد پاکستان نہیں بلکہ یونیورسٹی چلے گئے۔ اب وہ گریجویشن مکمل کرنے والے ہیں اور ان کی شادی بھی ہو چکی ہے۔

’اب میں خوش ہوں، میں ڈنمارک میں اپنا مستقبل دیکھتا ہوں، پہلے ہر طرف تاریکی تھی۔‘

اسی بارے میں