’القاعدہ کی حمایت کرنے والے فوجی افسران کو نشانہ بنایا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہلیری کلنٹن 2016 میں امریکہ کے صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گی

امریکی وزارت خارجہ نے سابق وزیر خارجہ اور صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کی ای میلز ریلیز کی ہیں۔ تین ہزار صفحات پر مشتمل ان ای میلز کو وزارت خارجہ نے منگل کی رات کو جاری کیا۔

جاری کی گئیں ای میلز میں پاکستان کے بارے میں بھی کئی ای میلز ہیں۔

فوجی افسران کی معلومات

ان میں سے ایک ای میل قومی سلامتی کے سابق مشیر سینڈی برجر نے ہلیری کلنٹن کو تین اکتوبر 2009 کو بھیجی تھی۔ اس ای میل میں کہا گیا کہ کیسے پاکستان پر دباؤ بڑھایا جائے کہ وہ القاعدہ کے خلاف کارروائیاں تیز کرے۔

سینڈی برجر نے لکھا ہے: ’میرے خیال میں حال میں پاکستان القاعدہ کے رہنماؤں کو ہدف بنانے میں امریکہ کی مدد کر رہا ہے۔ لیکن القاعدہ کے ان رہنماؤں کو ٹارگٹ کرنے سے گریز کر رہے ہیں جہاں القاعدہ کا اتحاد ان گروہوں کے ساتھ ہے جن کو امریکہ کا افغانستان سے انخلا کی صورت میں پاکستان پروان چڑھانا چاہتا ہے تاکہ پاکستان کا اثر و رسوخ افغانستان میں رہ سکے۔‘

سینڈی برجر نے اپنی اس ای میل میں ہلیری کلنٹن سے مزید کہا ہے کہ القاعدہ کے خلاف کارروائی کرنے کے حوالے سے پاکستان پر دباؤ بڑھانے میں جبری طریقے زیادہ مفید تب ہوں گے جب ان کا نشانہ پاکستان کی عسکری قیادت میں مخصوص افراد ہوں گے جو القاعدہ کی حمایت کرتے ہیں۔

’جیسے کہ اگر ہمارے پاس ایسے فوجی افسران کے بارے میں کافی انٹیلی جنس معلومات ہوں تو ہم القاعدہ کی حمایت کرنے والے افسران کے بینک اکاؤنٹوں کی معلومات، سفری معلومات اور جائیداد کی معلومات استعمال کر کے کارروائی کر سکتے ہیں جس میں جوابی کارروائی کا خدشہ بھی نہ ہو اور جنگجوؤں کی حمایت کرنے والوں کے لیےخطرہ بڑھ جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس تجویز کے جواب پر ہلیری کلنٹن نے ای میل میں لکھا ہے: ’شکریہ سینڈی۔ یہ بہت مفید ہے۔‘

اس ای میل میں قومی سلامتی کے سابق مشیر نے مزید لکھا ہے کہ ’بھارت کے ساتھ اہم ترین تعلق کا بھی معاملہ ہے۔ کیا بھارت کچھ ایسے اقدامات کر سکتا ہے جن سے پاکستان کی بھارت کے بارے میں تشویش کم ہو اور وہ مغرب کی جانب سے اٹھنے والے خطرات بشمول لشکرِ طیبہ اور القاعدہ پر توجہ مرکوز کر سکے؟

’کیا کچھ ایسے اقدامات ہیں جن سے پاکستانی حکام کا بھارت پر اعتماد بڑھے مثلاً فوجی نقل و حرکت کی معلومات کا تبادلہ کرنا، تاکہ غیر یقینی صورتحال ختم ہو اور پاکستانی عوام اپنی توجہ بھارت کی بجائے عسکریت پسندی پر مرکوز کر سکیں؟ بھارت پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف زیادہ سختی سے متحرک دیکھنا چاہتا ہے اس لیے ایسے اقدامات سے انھیں لگے گا کہ ان کے مفادات کا تحفظ ہو رہا ہے۔ یہ مشکل صورتِ حال ہے لیکن اس پر عمل کرنا سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔‘

سٹریٹیجک کمیونیکیشنز

نشر کردہ ای میلز میں ایک ای میل 27 اکتوبر 2009 کی ہے جو ڈگ ہیٹیوے نے ہلیری کلنٹن کو لکھی تھی۔ اس ای میل کا مضمون ہے ’پاکستان کے لیے سٹریٹیجک کمیونیکیشنز۔‘

ڈگ ہیٹیوے نے اس ای میل میں کہا ہے کہ وہ پاکستان سے قبل عوامی رائے عامہ بنانے میں لبنان کی حکومت کی بھی مدد کر چکے ہیں۔

ڈگ نے اس وقت کے پاکستان کے امریکہ میں سفیر حسین حقانی کے حوالے سے لکھا ہے: ’میں آپ کو مطلع کرنا چاہتا ہوں کہ سفیر حقانی نے مجھے کہا ہے کہ میں حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کے درمیان رابطوں میں بہتری کے حوالے سے تجویز پیش کروں۔‘

ای میل میں ڈگ ہیٹیوے نے کہا ہے کہ بہتر کمیونیکیشن پاکستان میں جاری سیاسی بحران تو فوری طور پر حل نہیں کر سکتی لیکن ’وسیع سٹریٹیجک کمیونیکیشن کی حکمت عملی‘ میں ضرور کارآمد ثابت ہو گی۔

’میرے علم میں ہے کہ پاکستان کے بارے میں ایک سٹریٹیجک کمیونیکیشن ورکنگ گروپ کام کر رہا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ میں اس گروپ میں سے کسی سے مل کر اس تجویز پر بات چیت کر لوں؟‘

اس ای میل کا جواب ہلیری کلنٹن نے دو نومبر 2009 کو دیا۔ جواب میں انھوں نے لکھا: ’یقیناً حکومت پاکستان کے لیے یہ مدد مفید ہو گی ۔۔۔ برائے مہربانی مجھے حسین حقانی کے ساتھ مزید پیش رفت سے آگاہ رکھنا۔‘

طویل مدتی سٹریٹیجی گروپ

طویل المدتی سٹریٹیجی گروپ کی رکن جیکلین نیومر نے 30 مارچ 2009 کو ہلیری کلنٹن کو اس گروپ میں مختلف معاملات پر بات چیت کے بارے میں مطلع کیا۔

اس ای میل میں جیکلین نے ہلیری کلنٹن کو ایشیا میں تبدیل ہوتی سٹریٹیجک صورتحال کے بارے میں بتایا۔

اس ای میل میں کہا گیا ہے کہ جن ایشوز پر ابتدائی طور پر بحث کی جائے گی ان میں سے ایک ہے ’ایسی صورت میں کیا ہو گا اگر پاکستان میں موثر وفاقی حکومت کے خاتمہ ہو جائے جس کے نتیجے میں پنجاب ریاست، بلوچ/سندھی ریاست کے ساتھ مل جل کر رہے اور افغانستان جو پھیل کر ان سرحدی علاقوں تک پہنچ جائے جو اس وقت پاکستان کا حصہ ہیں۔‘

اسی بارے میں