’سیاست کے لیے غیرملکی طلباء کو نہ روکیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

مشہور زمانہ کیمبرج یونیورسٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ برطانیہ آنے والے تارکین وطن کی تعداد کے ہدف میں غیرملکی طلبہ کو شامل کرنا مضحکہ خیز فیصلہ ہے۔

سر لیزس بورشی وکز نے یہ بھی خبردار کیا کہ اس فیصلے سے یہ منفی پیغام جائے گا کہ غیرملکی طلبہ کو برطانوی یونیورسٹیوں میں خوش آمدید نہیں کہا جارہا۔

اُن کا کہنا تھا کہ کیمبرج کو دنیا بھر سے بہترین اساتذہ اور طالبعلموں کی بھرتی کے لیے دوسری جامعات سے مسابقت کا سامنا ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ ساری دنیا سے بہترین ٹیلنٹ کو حاصل کرنے کی اہلیت کو اس طرح کی پالیسی سے خطرے میں ڈالا جارہا ہے۔

بقول سر لیزس، غیرملکی طلباء کو بھرتی کرنے میں مشکلات برطانوی یونیورسٹیوں کو درپیش ’خطرات‘ میں سرِفہرست ہیں۔

دوسری جانب محکمۂ کاروبار، تخلیقات اور مہارت کی ایک ترجمان نے اِن خدشات کی نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیرملکی طلباء کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں ساڑھے چار لاکھ کے لگ بھگ غیرملکی طلباء ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یونیورسٹیوں میں ہر پانچ میں سے ایک طالبعلم غیرملکی ہے۔ ترجمان نے زور دیا کہ حقیقی طالعلموں کو خوش آمدید کہا جاتا ہے اور نہ تو اُن کی تعداد پر قدغن لگانے کا کوئی فیصلہ ہوا ہے نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیرغور ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption سر لیزس خود بھی ایک امیگرنٹ خاندان سے ہیں۔

لندن میں لیڈرشپ فاؤنڈیشن فور ہائیر ایجوکیشن میں خطاب کرتے ہوئے سر لیزس کا کہناتھا کہ فوری سیاسی فائدے کے لیے اُن فوائد کو قربان کیا جارہا ہے جو غیرملکی طلباء کو بھرتی کرکے برطانیہ حاصل کرسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ غیرملکی طلباء کی بھرتی اور امیگریشن جیسے موضوعات پر مباحثے میں منفی انداز کم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یونیورسٹی کی سطح پر تحقیقی کام میں پوسٹ گریجویشن کے طلباء ’انجن روم‘ کا کردار اداکرتے ہیں اور کیمبرج میں اس سطح پر تحقیق کرنے والے 60 فیصد محققین غیرملکی ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اعلٰی درجے کی تحقیق میں دوسرے نمبر پر رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے۔

سر لیزس نے کہا کہ ایسے محقیقن کے عزائم بلند ہوتے ہیں لیکن یہ لوگ بڑی آسانی سے کہیں بھی آجاسکتے ہیں۔ ’ اگر ہم یہاں اُن کے لیے کام کرنا غیرپُرکشش بنادیں گے تو وہ کہیں اور چلے جائیں گے۔‘

کیمبرج یونیورسٹی کے سربراہ کا کہنا تھا نقل مکانی کرنے والوں کی وجہ سے معیشتوں میں نئی توانائی آتی ہے اور یہ لوگ نت نئی اختراعات اپنے ساتھ لاتے ہیں لیکن یہ سب کچھ امیگریشن پر بحث میں گم ہوتا جارہا ہے۔

انھوں نے خبردار کیا کہ برطانیہ میں سکونت اختیار کرنے والوں کی تعداد کے ہدف میں غیرملکی طلباء کو شامل کرنا وقتی فائدے کے لیے اور کوتاہ بینی ہے حالانکہ اس معاملے پر طویل المدت حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔

سر لیزس نے اپنے ماضی اور بچپن کا ذکر بھی کیا۔ وہ خود بھی ایک پولش امیگرنٹ خاندان کے فرد ہیں جو دوسری جنگ عظیم کے بعد ویلز میں آکر آباد ہوگیا تھا لیکن انھوں نے یہاں موجود تعلیمی مواقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔

انھوں نے طب کی تعلیم حاصل کی اور میڈیکل ریسرچ کونسل کی سربراہ کے عہدے پر پہنچے اور بالآخر انھیں حفاظتی ٹیکوں پر اُن کے کام کی بدولت نائٹ ہڈ بھی دیا گیا۔ کیمبرج کے سربراہ کی حیثیت سے اُن کا کہنا تھا کہ اُن کے ذاتی تجربے نے انھیں سکھایا ہے کہ تعلیم تک رسائی آفاقی ہونی چاہیے۔

ہائیر ایجوکیشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر نک ہلمن نے بھی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ مزید غیرملکی طلباء کی بھرتی کے معاشی فوائد اور اس کی قیمت کا تفصیلی جائزہ لے۔

برطانوی یونیورسٹیوں کے نمائندہ ادارے یونیورسٹیز یوکے کی سربراہ نکولا ڈینڈرج نے بھی کیمبرج یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے بیان کی تائید کی ہے اور کہا ہے کہ سکونت اختیار کرنے والوں کی تعداد گھٹانے کے لیے غیرملکی طلباء کو ہدف نہیں بنانا چاہیے۔

اسی بارے میں