غربِ اردن میں حماس کے کارکنوں کی گرفتاریاں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption غرب اردن میں حالیہ ہلاکتوں کے بعد کشیدگی ایک مرتبہ پھر بڑھ گئی ہے

فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز نے مقبوضہ غربِ اردن میں حماس تحریک کے 100 سے زیادہ کارکن گرفتار کر لیے ہیں۔

آٹھ سال میں پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی نے، جس میں صدر محمود عباس کی فتح تحریک حاوی ہے، کہا ہے اس نے حماس کو علاقے کی سکیورٹی کو سبوتاژ کرنے سے روکنے کے لیے ایسا کیا ہے۔

حماس کے ترجمان نے کہا ہے کہ گرفتاریاں غربِ اردن میں اسرائیلوں پر جان لیوا حملوں کو روکنے کی ایک کوشش ہے۔

حسام بدران نے فلسطینی سکیورٹی فورسز پر الزام لگایا کہ وہ اسرائیل کے لیے کام کر رہی ہیں۔ انھوں نے صدر عباس کو ذاتی طور پر اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

غزہ کی پٹی پر حاوی اسلامی گروہ حماس نے فوری طور پر اپنے اراکین کی رہائی کے لیے کہا اور ساتھ ہی نتائج کی دھمکی بھی دی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے ترجمان عدنان الدمیری نے کہا کہ گرفتار کیے جانے والے افراد پر سکیورٹی اور استحکام کو نقصان پہچانے کے الزام پر مقدمہ چلایا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم حماس کو اپنی سکیورٹی کو نقصان پہنچانے اور اپنے ملک میں خونریزی کرنے نہیں دیں گے۔ ہم حماس کو غربِ اردن میں حملے نہیں کرنے دیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حماس نے گرفتاریوں کا ذمہ دار محمود عباس کو ٹھہرایا ہے

اس سے قبل اسرائیل کی داخلی سکیورٹی کی ایجنسی نے کہا تھا کہ انھوں نے غربِ اردن کے نابلوس علاقے میں کام کرنے والے حماس کے ایک عسکری سیل کو فاش کیا ہے۔

یروشلم میں بی بی سی کی نامہ نگار یولاندے نیل کے مطابق اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان سکیورٹی میں تعاون ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے۔

چھاپوں کے بعد غزہ میں فتح کے سرکردہ اراکین کی گرفتاری کے لیے بھی وارنٹ جاری کر دیے گئے۔

نامہ نگار کے مطابق اس طرح کی صورتِ حال سے گذشتہ برس طے پانے والے مصالحتی معاہدے کے باوجود دونوں دھڑوں کے درمیان خلیج مزید بڑھ جانے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔

حماس نے 2006 کے پارلیمانی انتخابات جیتنے کے بعد 2007 میں فتح کو غزہ سے نکال دیا تھا، جس کے بعد سے فلسطینی اتھارٹی غربِ اردن کے چند حصوں پر ہی حکومت کر رہی ہے۔

جمعہ کو ہی ایک اسرائیلی جنرل نے حماس پر الزام لگایا کہ وہ مصر کے جزیرہ نما سینا میں ایک اسلامی گروہ کو مدد فراہم کر رہی ہے۔

میجر جنرل یاؤ موردیچائی نے حماس کے عسکری بازو کے اراکین کے نام لیے جو شدت پسندوں کو تربیت دے رہے ہیں اور مصری فوج کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی ہونے والے شدت پسندوں کو طبی امداد کے لیے غزہ لا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں جانتا ہوں کہ حماس تنظیمی اور اسلحہ کے حوالے سے سینا کی مدد کر رہی ہے۔‘

منگل سے لے کر اب تک کم از کم 17 مصری فوجی اور 100 کے قریب جنگجو شمالی سینائے میں ہونے والی لڑائی میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

حماس نے اپنے آپ پر لگائے گئے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

ایک اور واقعے میں جمعہ کو غربِ اردن میں ایک اسرائیلی فوجی افسر نے ایک 17 سالہ لڑکے کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جو ان کی کار پر پتھر پھینک رہا تھا۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ ان کے بریگیڈ کمانڈر نے پہلے وارننگ کے طور پر ہوا میں گولی چلائی تھی۔

اسی بارے میں