’دولتِ اسلامیہ سے منسلک گروپ کا اسرائیل پر راکٹ حملہ‘

Image caption وادی سینا میں گذشتہ سال اکتوبر سے ہنگامی حالت نافذ ہے جبکہ وہاں دہشت گرد حملوں میں 600 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں

خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم سے منسلک ایک گروپ کے مطابق اس نے مصر کے جزیرہ نما وادیِ سینا سے اسرائیل پر تین راکٹ پھینکے۔

یہ گروپ خود کو سینا پروونس کہلاتا ہے اور اس کے مطابق راکٹ حملہ اسرائیل کی مصری فوج کی حمایت کے درعمل میں کیا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی حدود میں دو راکٹ گرے ہیں تاہم اس کے نتیجے میں کوئی جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔

ایک دن پہلے جمعرات کو جزیرہ نما سینا میں اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کے حملوں میں ایک سو شدت پسند اور 17 فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

گروپ نے کہا ہے کہ اس نے گراڈ راکٹ ’مقبوضہ فلسطین‘ پر فائر کیے۔ اس کے بعد اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ دو میزائل اس کے علاقے نگیو میں ایک کھلی جگہ پر گرے اور اس کے نتیجے میں کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق غزہ کی سرحد کے قریب اشکول کونسل میں واقع یہودی آبادیوں میں خطرے کے سائرن کی آوازیں سنائی دی گئی تھی۔

اسرائیل الزام عائد کرتا ہے کہ فلسطینی تنظیم حماس سینا پروونس کی مدد کرتا ہے جس کی حماس تردید کرتا ہے۔

اسرائیل اور سینا کی 240 کلومیٹر مشترکہ سرحد ہے اور سینا میں حالیہ برسوں میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

وادی سینا میں گذشتہ سال اکتوبر سے ہنگامی حالت نافذ ہے جبکہ وہاں دہشت گرد حملوں میں 600 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

جمعرات کو شدت پسندوں کے حملوں کے بعد مشر نے اعلان کیا تھا کہ علاقے میں اس وقت تک فوجی کارروائی جاری رہے گی جب تک وہاں سے تمام شدت پسندوں کا خاتمہ نہیں ہو جاتا ہے۔

یہ حملہ مصر میں خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم سے منسلک مقامی شدت پسند گروہوں کا سب سے بڑا حملہ ہے۔

اسی بارے میں