’حاملہ ہونے کے لیےکمپنی کی اجازت ضروری‘

تصویر کے کاپی رائٹ thinkstock
Image caption کمپنی نے حال ہی میں کئی نوجوان خواتین کو بھرتی کیا ہے اور انھیں خدشہ ہے کہ ایک ہی وقت میں کئی خواتین زچگی کی وجہ سے چھٹی پر ہوں گی

چین سے اطلاعات ہیں کہ ایک کاروباری کمپنی نے اپنے ملازمین سے کہا ہے کہ وہ بچے پیدا کرنے یا حاملہ ہونے سے قبل باقاعدہ اجازت لیں۔اس خبر پر سرکاری ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔

چین کے صوبے ہننان میں ایک مالیاتی کمپنی نے اپنے ملازمین سے کہا کہ وہ ’ بچہ پیدا کرنے کے شیڈول میں جگہ‘ لینے کے لیے پہلے سے درخواست دیں اور وہ ایسا صرف اسی صورت میں کر سکتے ہیں جب اُن کی ملازمت کو پورا ایک سال مکمل ہو جائے۔

بغیر پیشگی اجازت لیے حاملہ ہونے والی خواتین پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔کمپنی کی اس پالیسی کو سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سرکاری خبر رساں ادارے چائنا یوتھ ڈیلی کے مبصر کا کہنا ہے کہ کمپنی اپنے ملازمین کو ’انسانوں کے بجائے پیداواری حصول کے ایک آلے ‘ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

کمپنی کی اس پالیسی سے ملازمین ناخوش ہیں۔ ایک ملازم نے شکوہ کیا کہ حمل کے بارے میں گارنٹی سے کچھ کہنا ناممکن ہے تو پھر اس بارے میں کمپنی کے طے کیے گئے شیڈول پر عمل کیسے کیا جا سکتا ہے۔

کمپنی نے حال ہی میں کئی نوجوان خواتین کو بھرتی کیا ہے اور انھیں خدشہ ہے کہ ایک ہی وقت میں کئی خواتین زچگی کی وجہ سے چھٹی پر ہوں گی۔

اے ایف پی کا کہنا ہے کہ کمپنی کے نمائندہ نے ان اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے مجوزہ پالیسی پر ملازمین سے رائے مانگی ہے۔

کمپنی کے منصوبے کے تحت ایسی شادی شدہ خواتین جن کی ملازمت کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے صرف انھیں ہی چھٹی پر جانے کی اجازت ملے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ملازمین کو سختی سے اپنے دیے گئے شیڈول پر عمل کرنا ہو گا اور اگر کوئی خاتون اپنے دیے گئے پلان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حاملہ ہوئی اور اُس کا کام متاثر ہوا، تو اُسے ایک ہزار ین یا 102 پاونڈ جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔اس کے ساتھ ساتھ اُنھیں ترقی اور بونس سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔

چین نے سختی سے ایک بچہ پیدا کرنے کی پالیسی نافذ کر رکھی ہے۔

اسی بارے میں