شامی مسجد میں دھماکہ، النصرہ فرنٹ کے ’25 باغی ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اریحا صوبہ ادلب میں حکومت کا آخری گڑھ تھا جس پر گذشتہ دنوں باغیوں نے قبضہ کر لیا

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے مطابق شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں ایک مسجد میں ہونے والے بم دھماکے میں القاعدہ سے منسلک تنظیم النصرہ فرنٹ کے کم از کم ’25 باغی ہلاک‘ ہو گئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیرئین آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ اریحا شہر میں درجنوں دوسرے افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سیرئین آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگ افطار کے لیے مسجد میں جمع ہو رہے تھے۔ دھماکے کی وجوہات کا علم ابھی تک نہیں ہو سکا ہے۔

سیرئین آبزرویٹری کے مطابق سالم نامی مسجد میں ہونے والے دھماکے میں النصرہ فرنٹ کے ایک غیر شامی سینیئر رکن کے بھی ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

خیال رہے کہ اریحا شہر صوبہ ادلب میں حکومت کا آخری مضبوط گڑھ تھا جسے مئی میں باغیوں نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر بشار الاسد کے خلاف بغاوت کے بعد سے شام کی خانہ جنگی میں اب تک دو لاکھ 30 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اسلام پسندوں کی ایک تنظیم جیش الفتح نے ایک حملے میں شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔

اس سے قبل باغیوں نے صوبے میں ادلب سمیت کئی شہروں پر قبضے کا دعوی کیا تھا۔

اریحا کے سقوط سے ترکی کی سرحد سے ملحق ادلب کا تمام علاقہ باغیوں کے قبضے میں آ گیا ہے۔

النصرہ 13 اسلام پسند تنظیموں سے میں سے ایک ہے جنھوں نے جمعرات کو مشترکہ حملے میں شمالی شہر حلب پر قبضہ کر لیا۔

خیال رہے مارچ سنہ 2011 میں شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف بغاوت کے بعد سے شام کی خانہ جنگی میں اب تک دو لاکھ 30 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں