بیل آؤٹ پیکیج مسترد، یونانی عوام کا ایتھنز میں جشن

تصویر کے کاپی رائٹ n
Image caption ریفرینڈم کے نتائج آنے کے بعد عوام کی بڑی تعداد نے دارالحکومت ایتھنز کی سڑکوں پر جشن منایا

یونانی عوام نے ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے عالمی قرض خواہوں کی جانب سے مزید قرض کے لیے عائد کی گئی شرائط کو بھاری اکثریت سے مسترد کر دیا ہے۔

اتوار کو بیل آؤٹ پیکیج کو منظور یا مسترد کرنے کے لیے منعقدہ ریفرینڈم کے حتمی نتائج کے مطابق ’نہ‘ کو واضح برتری حاصل ہوئی ہے۔

یونان میں ’نہ‘ کا جشن

یونان کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے حتمی نتائج کے مطابق ووٹنگ کی شرح 63 فیصد رہی اور کفایت شعاری کے اقدمات کے خلاف 61.3 فیصد جبکہ اس کے حق میں 38.7 فیصد ووٹروں نے ووٹ ڈالے۔

ریفرینڈم کے نتائج آنے کے بعد عوام کی بڑی تعداد نے دارالحکومت ایتھنز کی سڑکوں پر جشن منایا ہے۔

یونان میں بائیں بازو کی سخت گیر جماعت کی حکومت نے عوام سے قرض خواہوں کی شرائط کو مسترد کرنے کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یونانی وزیراعظم تیسپراس نے کہا ہے کہ وہ قرض خواہوں کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں

دوسری جانب یورپی یونین کے رہنماؤں نے متنبہ کیا تھا کہ اگر ریفرینڈم میں ’نہیں‘ کی جیت ہوتی ہے تو یونان یورو زون سے نکل جائے گا۔ اس سلسلے میں منگل کو یورپی یونین کا سربراہ اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

اتوار کی شب ریفرینڈم کے نتائج آنے کے بعد یونانی وزیراعظم تیسپراس نے یونانی ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’آج ہم جمہوریت کی فتح کا جشن منا رہے ہیں، کل ہم اپنے عوام کی طاقت پر بھروسہ کرتے ہوئے مل کر اس بحران سے نکلنے کی قومی کوشش جاری رکھیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’آپ نے ایک فراخ دلانہ فیصلہ کیا ہے۔ تاہم آپ نے جو مینڈیٹ مجھے دیا ہے میں اس سے پوری طرح آگاہ ہوں اور جو مینڈیٹ آپ نے مجھے دیا ہے وہ یورپ کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ مینڈیٹ

یورپ کے ساتھ ایک مستحکم حل کی تلاش کا ہے جو ہمیں اس بحران سے نکالے گا‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے ریفرینڈم کے حتمی نتائج کے مطابق ’نہ‘ کو 61.3 فیصد ووٹ ملے ہیں

یونانی وزیراعظم نے کہا ہے کہ وہ قرض خواہوں کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں اور اب ’مذاکرات کی میز پر قرض کا معاملہ ہوگا۔‘

کچھ یورپی رہنماؤں نے بھی ریفرینڈم کے نتائج پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

اٹلی کے وزیرِ خارجہ پاؤلو گینتیلونی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’اب ایک معاہدے کے لیے کوشش کرنا درست ہے۔‘

تاہم انھوں نے خبردار بھی کیا کہ ’یونان کی بھول بھلیاں سے نکلنے کے لیے ایسے یورپ کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے جو کمزور ہے اور آگے نہیں بڑھ رہا۔‘

بیلجیئم کے وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے کہ یونان سے بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے دروازے کھل گئے ہیں اور یوروزون کے وزرائے خزانہ ایسے اقدامات پر بات کر سکتے ہیں جن کے نتیجے میں یونانی معیشت پٹڑی پر واپس آ سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لوگوں نے بڑی تعداد میں ریفرینڈم میں حصہ لیا

یورپی کمیشن کے صدر جان کلاڈ جنکر نے کہا ہے کہ وہ یورو زون کے رکن ممالک کے رہنماؤں سے مشاورت کر رہے ہیں اور پیر کو اس سلسلے میں اہم یورپی حکام اور یورپی مرکزی بینک کے افسران سے بات چیت کریں گے۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند اور جرمنی چانسلر انگیلا میرکل پیر کو یورپ کی موجودہ معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ملاقات کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں