’ایران کے ساتھ معاہدہ اس ہفتے ہو سکتا ہے‘

جان کیری تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جان کیری کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر ’اصلی ترقی‘ ہوئی ہے

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے متعلق معاہدہ اس ہفتے میں ممکن ہے۔

وہ ویانا میں صحافیوں سے بات کر رہے تھے، جہاں ایران اور پانچ بڑی طاقتیں مذاکرات کر رہی ہیں۔

لیکن امریکی وزیرِ خارجہ نے اس کے ساتھ ساتھ خبردار بھی کیا کہ دونوں فریق کئی مختلف امور پر اس جگہ نہیں ہیں جہاں ہمیں ہونا چاہیئے۔‘

مذاکرات کی حتمی تاریخ سات جولائی ہے۔

جمعے کو ایران کے وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ معاہدہ کبھی اتنا قریب نہیں آیا تھا۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ ’اگر اگلے چند دنوں میں مشکل فیصلے کر لیے گئے اور جلدی کر لیے گئے تو ہم اس ہفتے معاہدہ کر سکیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ چند دنوں میں ’صحیح پیشرفت‘ ہوئی ہے۔

لیکن امریکہ مذاکرات چھوڑ کر جانے کے لیے بھی تیار ہے ’اگر ہمارے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہوتا اور اہم چیزوں ہر پیش رفت کے متعلق بالکل ہٹ دھرمی اور تامل رہتا ہے۔‘

پی 5 پلس 1 نامی گروپ، جس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی شامل ہیں، چاہتا ہے کہ ایران اپنی حساس جوہری سرگرمیوں کو کم کر دے اور اس بات کی یقین دہانی کرائے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایران کے وزیرِ خارجہ جاوید ظریف نے جمعہ کو کہا تھا کہ ایران جامع معاہدے کے جتنا قریب اب ہے ماضی میں کبھی نہیں تھا

اس کے عوض ایران چاہتا ہے کہ بین الاقوامی تجارتی پابندیاں ہٹا دی جائیں اور اس کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ جاوید ظریف نے جمعے کو کہا تھا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے جامع معاہدے کے جتنا قریب اب ہے ماضی میں کبھی نہیں تھا۔

تاہم ایرانی وزیرِ خارجہ نے اپنے ویڈو پیغام میں جوہری مذاکرات میں’جبر اور دباؤ‘ کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

جاوید ظریف نے کہا کہ یہ معاہدہ ہمارے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نئی راہیں کھولے گا جن میں مشرقِ وسطیٰ میں شدت پسندی جیسے مسائل بھی شامل ہیں۔

گذشتہ ہفتے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے عالمی طاقتوں کے چند بنیادی مطالبات کو مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ ایران صرف اسی صورت میں اپنی جوہری تنصیبات کو ختم کرے گا جب اس پر عائد اقتصادی پابندیاں ہٹا لی جائیں گی۔

انھوں نے آئندہ دس سالوں تک جوہری پروگرام میں تحقیق اور ترقی روکنے اور عسکری تنصیبات کے معائنے کی شرائط کو بھی مسترد کیا تھا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی ڈیڈ لائن 30 جون تھی جسے سات جولائی تک توسیع دی گئی۔

اسی بارے میں