رقہ میں ’دولت اسلامیہ‘ کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری، ’23 جنگجو ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک سکول پر کیے جانے والے امریکی ڈرون حملے میں ایک بچے سمیت چھ شہری مارے گئے ہیں

اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کے خلاف امریکی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کا کہنا ہے کہ شام میں تنظیم کے مضبوط گڑھ رقہ پر فضائی بمباری کی گئی ہے۔

رقہ کا شہر شام اور عراق میں قائم کی گئی ’دولت اسلامیہ‘ کی خود ساختہ خلافت کے دارالخلافے کی حیثیت رکھتا ہے۔

شامی انسانی حقوق کی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق حملے میں دولت اسلامیہ کے کم از کم 23 جنگجو مارے گئے ہیں۔

تنظیم کے مطابق رقہ میں ایک سکول پر کیے جانے والے امریکی ڈرون حملے میں ایک بچے سمیت چھ شہری بھی مارے گئے ہیں۔

امریکی فوج کے ترجمان کرنل تھامس گلیران کا کہنا ہے کہ ’آج رات کی جانے والی اہم فضائی کارروائی کا مقصد داعش کی شام اور عراق میں نقل وحرکت کی صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔‘

واضح رہے کہ حال ہی میں دولت اسلامیہ کی جانب سے جاری کی گئی ایک وڈیو جس میں شام کے شہر پیلمائرا میں 25 افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کرتے ہوئے دیکھائے جانے کے بعد یہ فضائی کارروائی کی گئی ہے۔

دوسری جانب اطلاعات کے مطابق شامی حکومتی افواج باغیوں کے زیرِ قبضہ قصبے ضبدانی میں داخل ہوگئی ہیں۔

صدر بشاالسد کی وفادار افواج کو لبنانی شعیہ عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔

ضبدانی شام اور لبنان کی سرحد پر واقع ہے۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جیم موئیر کا کہنا ہے کہ فوجی لحاظ سے اہم اس قصبے کو شام کی حکومت اور حزب اللہ مستقل بنیادوں پر اپنے کنٹرول میں لینا چاہتیں ہیں۔

ضبدانی پر قبضے کا مقصد سرحد کے قریب بسنے والی شیعہ آبادی کو اس علاقے متحرک النصرہ فرنٹ کے جنگجوؤں سے محفوظ رکھنا ہے۔

اسی بارے میں