یونان کا ’انکار‘ مستقبل کے لیے ایک جوا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یونان نے کٹوتیوں کے خلاف ووٹ دے کر یوروزون کے رہنماؤں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں

یونان کے ووٹروں نے یورپ کو ایک شوخ و سرکش جواب دیا ہے۔

یورپی سیاسی رہنماؤں اور حکومتی سربراہوں نے یونانیوں کو بار بار متنبہ کیا کہ ’نہیں‘ کے حق میں ووٹ کا مطلب یورو کو چھوڑنا ہوگا لیکن اس ڈراوے سے وہ متزلزل نہیں ہوئے اور بہت سے ووٹروں نے تو اپنی مدافعت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

یورپی پروجیکٹ اب اپنے سب سے سنگین بحران سے گزر رہا ہے۔

’نہیں‘ کے حق میں پڑنے والے ووٹوں کی تعداد نے خود یونان کی حکومت کو حیران کر دیا ہے اور بالآخر ووٹر وزیراعظم الیکسس تسیپراس سے متفق ہو گئے کہ قرض خواہ یونان کی معیشت کی ’سانس بند کر دینا چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ نہیں کے حق میں ووٹ معاملات طے کرنے میں ان کے ہاتھ کو مضبوط کرے گا۔

ملک میں اے ٹی ایم بند ہیں، بینکوں میں پیسے ختم ہونے کو ہیں اور معیشت کا حال برا ہے اور ان سب کے باوجود یونانیوں نے برلن اور برسلز میں تیار کی جانے والی کٹوتیوں کی شرائط کو ایک بار پھر مسترد کر دیا ہے۔

اس کی وجہ سے جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل کو اپنے دس سالہ دور اقتدار کے مشکل ترین چیلنج کا سامنا ہے۔ آنے والے 48 گھنٹوں میں انھیں کئی فیصلے کرنے ہیں اور وہ بھی ایسے جو یہ طے کریں گے کہ آیا وہ یوروزون کو قائم رکھ سکتی ہیں یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انگیلا میرکل نے کہا کہ ’ایک اچھا یورپی ایسا نہیں جو کسی بھی قیمت پر معاہدے کے لیے تیار ہو‘

وزیراعظم تسیپراس کو بھی آنے والے وقت میں مشکلات درپیش ہوں گی جس کے لیے انھیں سیاسی سنجیدگی اور اس ہنر کا مظاہرہ کرنا ہوگا جو انھوں نے ابھی تک نہیں کیا ہے۔

منگل کو انگیلا میرکل پیرس جائیں گی جہاں وہ فرانس کے صدر فرانسوا اولاند کے ساتھ عشائیے میں شامل ہوں گی۔

اتحاد کا مظاہرہ کرنے کے باوجود ان دونوں رہنماؤں کے سُر میں فرق ہے۔

صدر اولاند نے یونانی ریفرینڈم سے قبل کہا: ’ہمیں واضح ہونے کی ضرورت ہے، معاہدے کا وقت ابھی ہے۔‘ جبکہ انگیلا میرکل نے کہا کہ ’ایک اچھا یورپی ایسا نہیں جو کسی بھی قیمت پر معاہدے کے لیے تیار ہو۔‘

فرانس کی کابینہ میں ایسے افراد موجود ہیں جو تسیپراس کے ساتھ پھر سے گفتگو کا سلسلہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔ صدر اولاند نے یونانی رہنما سے بات بھی کی ہے جبکہ اٹلی بھی گفتگو کے حق میں ہے۔

انگیلا میرکل کی پوزیشن زیادہ مشکل ہے۔ اگر وہ یونان کے ساتھ نئے بیل آؤٹ معاہدے کے متعلق بات چیت کرنا چاہتی ہیں تو انھیں اس کے لیے پارلیمنٹ سے منظوری لینی ہو گي۔

یہ تقریباً طے ہے کہ انھیں منظوری مل جائے گی لیکن اس سے جرمنی میں یونان کے خلاف بڑھتی ناراضی کا راز فاش ہو جائے گا اور یہ واضح ہے کہ بہت سے سیاست داں، حکام اور معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ یونان کو یوروزون چھوڑ دینا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یونانی وزیراعظم نے کہا ہے کہ وہ قرض خواہوں کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں اور اب ’مذاکرات کی میز پر قرض کا معاملہ ہو گا‘

کنزرویٹیو پارٹی سی ایس یو کے ایم پی ہینز میشیلبیش نے پہلے ہی کہہ رکھا ہے کہ ’اب یہ سوال کرنا ہے کیا یونان کا یوروزون سے باہر ہونا زیادہ اچھا نہیں۔‘

نائب چانسلر سگمر گیبریئل کا کہنا ہے کہ ’نہ صرف نئی ڈیل کے بارے میں سوچنا مشکل ہے بلکہ ایلکسس تسیپراس نے یورپ اور یونان کے درمیان وہ آخری پل بھی توڑ کر گرا دیا ہے جس پر دونوں معاہدے کے لیے آگے بڑھ سکتے تھے۔‘

جرمنی میں یونان کے رہنما پر اعتماد نہیں رہا۔ بہت سے ایم پی ان کے عہد پر یقین نہیں کرتے کہ وہ اصلاحات نافذ کریں گے۔

جرمنی میں بہت سے لوگ ’ہاں‘ کے حق میں ووٹ کی امید کر رہے تھے جس کے نتیجے میں وہاں تسیپراس کی جگہ ایک ٹیکنوکریٹ حکومت آتی، لیکن اب انھیں ایک بار پھر ایک ایسے شخص سے سابقہ ہے جس پر وہ بھروسہ نہیں کرتے۔

پیرس کی ميٹنگ کے بعد یورو زون کے رہنماؤں کا برسلز میں ہنگامی اجلاس ہو گا اور وہاں کوئی رجائیت نہیں۔

یوروگروپ کے وزرائے خزانہ کے سربراہ ییرون ڈائسلبلوم نے نتائج کو ’یونان کے مستقل کے لیے انتہائي قابل افسوس‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’یونان کی معیشت میں بہتری لانے کے لیے مشکل اقدامات اور اصلاحات ناگزیر ہیں۔‘

اس لیے بات چیت کے شروع ہونے کا امکان تو ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ وہ کس چیز پر بات کریں گے۔ اب ای یو اور آئی ایم ایف میز پر نہیں ہیں۔ یونان کی جانب سے عندیہ ملا ہے کہ وہ بعض کٹوتیوں پر غور کر سکتے ہیں لیکن وہ بھی اسی وقت جب قرض کے خاکے پر بات چیت کے لیے رضامندی ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ n
Image caption یونان کے ووٹروں نے یورپ کو ایک شوخ و سرکش جواب دیا ہے

تسیپراس کا کہنا ہے کہ ان کے ہاتھوں کو آئی ایم ایف کی رپورٹ سے تقویت ملی ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ یونان کا قرض ناقابل عمل ہے لیکن یورو گروپ یونان پر ایسی اصلاحات کی پابندی کرنے کے لیے کہے گا جس کی جانچ ہو سکے۔

کم از کم ایک یورپی رہنما نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ یونان کو یورو زون چھوڑ دینا چاہیے۔ ایسے دوسرے بھی ہوں گے۔ تسیپراس کی حکومت کے خلاف رویے میں سختی آئی ہے۔

انگیلا میرکل یوروزون سے یونان کے اخراج کی بات پر صدارت کرنا پسند نہیں کریں گی کیونکہ اس سے یوروزون کی بدنامی ہوگي اور جرمنی کی چانسلر کی حیثیت سے ان کی شبیہ خراب ہوگ ی۔

بہت سے مشیر یونان کے یوروزون سے نکل جانے میں بھلائی دیکھتے ہیں جبکہ بہت سے حکام نے متنبہ کیاہے کہ اس کا نکلنا بغیر کسی قیمت کے نہیں ہو گا۔

اچھے متبادل نہیں ہیں اور وقت تو بالکل نہیں ہے۔ یونان کی معیشت بے روک ٹوک گر رہی ہے اور اگر ای سی بی سے پیسے نہیں ملے تو یونان کے بینک بیٹھ جائیں گے۔ معاشی حالت اس قدر خستہ ہو چکی ہے کہ کوئی بھی بیل آؤٹ ڈیل سخت ہو گی۔ 20 جولائی کو یونان نے ای سی بی کو تین ارب یورو دینا ہے۔ اگر وہ قرض ادا نہیں کر پاتا ہے تو سینٹرل بینک یونان کے بینکوں سے تمام فنڈنگ واپس لے لے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption اے ٹی ایم بند ہیں، بینکوں میں پیسے ختم ہونے کو ہیں اور معیشت کا حال برا ہے ان سب کے باوجود یونانیوں نے برلن اور برسلز میں تیار کی جانے والی کٹوتیوں کی شرائط کو ایک بار پھر خارج کر دیا ہے

جو سچائي جرمنی کو ووٹروں کو نہیں بتائي گئی ہے وہ یہ ہے کہ اگر یونان کی معیشت کو سنبھلنا ہے تو اسے ایک تیسرے بیل آؤٹ کی ضرورت ہوگی۔ کتنے کی ضرورت ہوگی؟ شاید آئندہ تین سال کے عرصے میں 50 ارب یورو۔

یہ بات طے ہے کہ یونان کا قرض قابل عمل نہیں ہے اس لیے کوئی بھی معاہدہ اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتا جب تک اس مسئلے کا تدارک نہ کیا جائے۔

آئندہ چند روز کے دوران یورپ کے رہنماؤں کو یونان کو بچانے اور یورپی پروجیکٹ کی ساکھ کو بچانے کے لیے دوراندیشی اور ہمت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

اسی بارے میں