’دولت اسلامیہ کا جھنڈا لپیٹے شخص کے خلاف کارروائی کیوں نہیں؟‘

برطانیہ میں پولیس پر اس بارے میں تنقید کی جا رہی ہے کہ اُس نے ویسٹ منسٹر میں پارلیمان کے سامنے اُس شخص کو گرفتار کیوں نہیں کیا جس نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ تنظیم کا جھنڈا لپیٹا ہوا تھا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اس طرح کا کوئی واقعی عمل قابل دست اندازیِ پولیس ہے؟

پارلیمان کے سامنے سے گزرنے والے مذکورہ شخص نے اپنے کندھے پر ایک بچے کو بھی بٹھایا ہوا تھا جس کے ہاتھ میں بھی شدت پسند تنظیم کے پرچم سے ملتا جلتا جھنڈا تھا۔

میٹروپولیٹین پولیس کا کہنا ہے کہ اُس نے مذکورہ شخص کو روکا تھا لیکن مزید کوئی کارروائی نہیں کی۔

ایک بیان میں پولیس نے کہا ہے: ’پولیس افسر نے متعلقہ قوانین، خصوصاً قانونِ امنِ عامہ کی روشنی میں اِس شخص سے گفتگو کی جس کے بعد وہ اِس نتیجے پر پہنچے کہ یہ شخص قانون کی خلاف ورزی نہیں کر رہا تھا۔ اِس لیے اِسے گرفتار نہیں کیا گیا۔‘

پولیس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’کسی نشان یا پرچم کو پہننا یا اُس کی نمائش کرنا اُس وقت تک جرم نہیں قرار دیا جا سکتا جب تک وہ نشان یا پرچم اِس انداز میں پہنا جائے یا اُس کی نمائش کی جائے جس سے یہ واضح شبہ یا تاثر پیدا ہو کہ ایسا کرنے والا شخص کسی غیر قانونی تنظیم کا رکن یا حمایتی ہے۔ گو دولتِ اسلامیہ تنظیم کی رکنیت یا حمایت غیرقانونی ہے لیکن ایک علیحدہ ریاست کی تشکیل کی حمایت کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔‘

انگلینڈ اور ویلز میں نافذالعمل 1986 کے پبلک آرڈر ایکٹ کے مطابق کوئی بھی شخص تشویش یا بے اطمینانی پھیلانے اور ہراساں کرنے کا مجرم قرار دیا جائے گا ’اگر وہ کسی تحریر یا علامت کی کسی بھی ایسے انداز کی نمائش کسی ایسے شخص کی موجودگی میں کرے جو اِن سے بدسلوکی یا توہین محسوس کرے یا ہراساں ہو یا تشویش اور بے چینی کا شکار ہو جائے۔‘

اسی طرح پورے برطانیہ میں نافذ 2000 کے انسداد دہشت گردی ایکٹ کی رو سے ’کوئی بھی شخص جرم کا مرتکب ہوگا اولاً اگر وہ کوئی ایسا کپڑا پہنے یا دوم، کوئی بھی ایسی چیز پہنے یا اُس کی نمائش ایسے انداز یا حالات میں کرے جن سے یہ کافی شبہات پیدا ہوں کہ اس عمل کا مرتکب شخص کسی کالعدم تنظیم کا رکن یا حمایتی ہے۔‘

دولت اسلامیہ گذشتہ برس سے برطانیہ میں غیرقانونی قرار دی جا چکی ہے اور اِس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو جرمانے کے ساتھ چھ ماہ کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

وارک یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسرگیری واٹ کے خیال میں پارلیمان کے سامنے گھومنے والے شخص کے بارے پولیس کا موقف ممکنہ طور پر درست تھا کہ اُس شخص نے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔

لیکن گیری واٹ کے خیال مذکورہ بالا دونوں قوانین سے قطع نظر یہ دلچسپ بات ہے کہ پولیس یہ نہیں سمجھتی کہ دولت اسلامیہ تنظیم کا جھنڈا اٹھانا عام قوانین کے تحت امنِ عامہ کی خلاف ورزی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر معاملہ اِس شخص کے بجائے سرعام کسی شخص کی برہنگی کا ہوتا تو شاید پولیس مداخلت کرتی حالانکہ اِس حوالے سے ایسا کوئی سخت قانون نہیں ہے کہ کوئی شخص سرعام برہنہ نہیں ہو سکتا۔

گیری واٹ کہتے ہیں کہ اہم بات یہ ہے کہ خلاف ورزی کہاں محسوس کی گئی ہے۔ دولت اسلامیہ تنظیم کا جھنڈا لپیٹ کر پارلیمان کے سامنے گھومنے والے شخص کے معاملے میں وہاں آتے جاتے سیاحوں کے ہجوم کی جانب سے بظاہر کوئی ردعمل نہیں ہوا بلکہ شاید بہت سارے تو اِس جھنڈے کی اہمیت سے بھی واقف نہ ہوں۔

گیری واٹ کہتے ہیں کہ اصل ہنگامہ سوشل میڈیا پر ہوا ہے لیکن ابھی تک کسی بھی جانب سے ایسی کوئی تجویز سامنے نہیں آئی کہ پولیس کو ایسے معاملات میں مقامی امنِ عامہ برقرار رکھنے کی کوشش میں سوشل میڈیا پر اٹھنے والے شور شرابے کو بھی خاطر میں لانا چاہیے۔

اسی بارے میں