’دولتِ اسلامیہ نے رقہ کے قریبی قصبے پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دولتِ اسلامیہ نے حالیہ ہفتوں میں کردوں کے خلاف متعدد جان لیوا حملے کیے ہیں

اطلاعات کے مطابق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نےشام کے شمال میں اپنے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے علاقے رقہ کے قریبی قصبے عین عیسیٰ پر کرد افواج سے دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا ہے۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیرئین آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ جہادیوں کےگروہ نے عین عیسیٰ اور اس کے ارد گرد کے دیہاتوں پر پیر کی دوپہر قبضہ کیا۔

تاہم کرد پاپولر پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی افواج ابھی بھی دولتِ اسلامیہ کا مقابلہ کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ وائی پی جی کے جنگجوؤں اور شامی باغیوں نے دو ہفتے قبل عین عیسیٰ پر قبضہ کیا تھا۔

دولتِ اسلامیہ نے حالیہ ہفتوں میں کردوں کے خلاف متعدد جان لیوا حملے کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سیرئین آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے پیر کو عین عیسیٰ اور اس کے ارد گرد کے علاقے کا مکمل کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا

انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق دولتِ اسلامیہ نے رقہ اور حساکہ کے صوبوں میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی ہیں۔

سیرئین آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں وائی پی جی کے درجنوں جنگجو ہلاک اور زخمی ہوئے۔

وائی پی جی کے ترجمان ریدالخلیل نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو عین عیسیٰ میں داخل ہونے میں کامیاب رہے تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ قصبے سے دولتِ اسلامیہ کے جنگجؤوں کو باہر نکالنے کے لیے لڑائی جاری ہے۔

ادھر رقہ میں دولتِ اسلامیہ کے حملے کے بعد امریکی اتحادی افواج نے بھی دولت اسلامیہ کے خلاف شدید فضائی کارروائی کی۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف کی جانے والی یہ فضائی کارروائی اب تک کی شدید ترین کارروائی تھی۔

سیرئین آبزرویٹری کے مطابق اس فضائی کارروائی میں سات پلوں کو تباہ کر دیا گیا۔

اسی بارے میں