آسٹریلوی کابینہ کو سرکاری ٹی وی پروگرام کے بائیکاٹ کی ہدایت

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption د آسٹریلوی وزیرِ اعظم نے پہلے یہ کہا تھا کہ یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ آسٹریلوی نشریاتی ادارے کس فریق کا حامی ہے

آسٹریلوی وزیرِ اعظم ٹونی ایبٹ نے اپنی کابینہ کے ارکان سے کہا ہے کہ وہ ملک کے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک مقبول ٹاک شو کا بائیکاٹ کریں۔

آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی) نے دو ہفتے قبل اپنے لائیو پروگرام ’کیو اینڈ اے‘ یعنی سوال و جواب میں دہشت گردی کے ایک سابق مشتبہ شخص کو سوال کرنے کا موقع دیا تھا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اس پروگرام سے ناخوش آسٹریلوی وزیرِ اعظم کی ہدایت پر ملک کے وزیرِ زراعت نے پیر کی شب چینل پر پروگرام میں شرکت سے معذرت کر لی ہے۔

وزیرِ زراعت کے دفتر کی جانب سے مقامی اخبار سڈنی مارننگ ہیرلڈ کو بتایا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم نہیں چاہتے کہ ان کی کابینہ کا کوئی رن سوال و جواب کے پروگرام میں شرکت کرے۔

سوال و جواب کا یہ پروگرام آسٹریلیا میں قومی سلامتی اور اظہارِ رائے کی آزادی کے بارے میں جاری بحث کا مرکز بن چکا ہے۔

اے بی سی نے گذشتہ ہفتے تسلیم کیا تھا کہ سڈنی سے تعلق رکھنے والے مشتبہ شخص ذکی ملاح کو لائیو ٹی وی پر سوال کرنے کا موقع دینا درست نہیں تھا۔

ملاح کو 2005 میں سرکاری اہلکاروں کو ہلاک کرنے کی دھمکی دینے کا مجرم قرار دیا گیا تھا تاہم انھیں دہشت گردی کے الزامات سے بری کر دیا گیا تھا۔

بطور ناظر پروگرام میں شرکت کرنے والے ذکی ملاح نے خارجہ امور کے پارلیمانی سیکریٹری سٹیون سیوبو سے حکومت کے اس فیصلے کے بارے میں دریافت کیا تھا جس کے مطابق دہشت گردی کی حمایت پر دوہری شہریت کے حامل آسٹریلوی باشندوں سے شہریت واپس لی جا سکے گی۔

سٹیون سیوبو کے جواب پر ملاح غصے میں آ گئے تھے اور کہا تھا کہ ان جیسے وزیروں کی وجہ سے ہی ’آسٹریلوی مسلمانوں کا شام جانا اور وہاں (دولتِ اسلامیہ) میں شمولیت کا عمل جائز ہوگیا ہے۔‘

اس پروگرام کے بعد آسٹریلوی وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ آسٹریلوی نشریاتی ادارے کس فریق کا حامی ہے۔

اسی بارے میں