کیا دفتر میں مذہب کی کوئی جگہ ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بہت سی کمپنیوں کی سربراہان سمجھتے ہیں کہ عقائد سے نہ صرف انھیں بلکہ کمپنی کو بھی فائدہ ہوتا ہے

بہت سے لوگوں کے لیے شاید اپنے دفاتر یا کام کرنے کی جگہوں میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ عبادت کرنا بہت آرام دہ بات نہ ہو۔

لیکن چین کے ریئل سٹیٹ ٹین ٹائمز گروپ کے بورڈ روم میں بالکل ایسا ہی ہوتا ہے، خاص طور پر جب وہ کوئی اہم فیصلے کرنے والے ہوں۔

کمپنی کی آٹھ افراد پر مشتمل مینیجمنٹ ٹیم میں تین چوتھائی عیسائی ہیں اور اس کے چیئرمین وانگ راؤزنگ، جو خود بھی آٹھ سال پہلے عیسائی ہوئے ہیں، کہتے ہیں کہ جب کمپنی کو مشکل فیصلے کرنے ہوتے ہیں تو وہ بائبل سے راہنمائی حاصل کرتی ہے۔

یہی نہیں بلکہ وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ وہ نہیں بلکہ خدا ہی ان کی کمپنی چلاتا ہے۔

’وہ سب کچھ کنٹرول کرتا ہے۔ میں تو صرف عیسیٰ کا خادم ہوں اور کمپنی کی دیکھ بھال میں ان کی معاونت کرتا ہوں۔‘

وانگ راؤزنگ کا یقین ہے کہ عیسائی اقدار کی وجہ سے ان کی کمپنی نے عالمی اقدار میں کامیابی حاصل کی ہے۔

تاہم وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ عیسائی اقدار ہی ان کی کمپنی کی کامیابی کی وجہ نہیں ہیں بلکہ ان کے ملازمین کی تکنیکی مہارت، مثلاً مارکیٹنگ اور سیلز کی صلاحیتوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ٹین ٹائمز گروپ کے وانگ راؤزنگ سمجھتے ہیں کہ عیسائی اقدار نے ان کی کمپنی کو سہارا دیا ہے

وہ کہتے ہیں کہ ان کے ملازمین محسوس کرتے ہیں کہ ان کا خیال رکھا جا رہا ہے، تو بہتر پرفارمنس کے لیے ان کو مدد ملتی ہے، اور کمپنی کے سپلائیروں کے ساتھ منصفانہ طریقے سے سلوک کرنے کی وجہ سے ان کے ساتھ مضبوط تعلق قائم ہوا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی حکمتِ عملی منفرد ہے جو بقول ان کے اس انتہائی مسابقتی دور میں بھی کمپنی کو قائم رکھنے میں مدد دے گی۔

تاہم کسی ایسے کمپنی کے سربراہ کو ڈھونڈنا جو کام کی جگہ پر اپنے مذہب کے بارے میں کھل کر بات کرتا ہے اتنا عام نہیں ہے۔ اگرچہ بڑے کاروباری اداروں کو اپنے ملازمین کو ایسی رعایتیں ضرور دینا چاہییں کہ وہ اپنے مذہبی عقائد کے مطابق عبادت کر سکیں جیسا کہ عبادت کے لیے کمرے وغیرہ مہیا کرنا، لیکن ادارے کے سربراہان عموماً اپنے عقائد کو نجی معاملہ ہی رکھتے ہیں۔ کیونکہ وہ یہ نہیں چاہتے کہ وہ خود سے جونیئر ملازمین کے سامنے اپنے عقیدوں کی تشہیر کرتے نظر آئیں۔

گیون اولڈ ہیم ریٹیئل سٹاک بروکر ’دی شیئر سینٹر‘ کے ایگزیکٹیو چیئرمین کے علاوہ چرچ آف انگلینڈ کی سب سے بڑی مجلس جنرل سائنوڈ کے سینیئر رکن بھی ہیں اور اسے وہ بالکل نہیں چھپاتے۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ یہ نہیں چھپاتے کہ وہ عیسائی ہیں، وہ کام کی جگہ پر اس کا بہت سوچ سمجھ کر ذکر کرتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ اتنا کھلم کھلا نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ ہو سکتا ہے کہ دوسرے کسی شخص کا کوئی مذہب نہ ہو۔ آپ کو اس کا احترام کرنا چاہیے۔‘

لیکن وہ کہتے ہیں کہ ان کا عقیدہ ان کے بزنس اور ذاتی زندگی کی رہنمائی کرتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب وہ مشکل فیصلے کر رہے ہوتے ہیں تو وہ عقیدہ کہ ’اپنے ہمسائے سے بھی اتنا پیار کرو جتنا خود سے کرتے ہو‘ انھیں ایک ڈھانچہ فراہم کرتا ہے اور مستقل مزاجی کی ایک ایسی یقینی صورت بناتا ہے جو انھیں بہتر فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہے۔

’یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ انھیں عیسائی اقدار کہیں، وہ عالمگیر اقدار ہیں۔‘

’آپ کو صرف پیار درکار ہے۔‘

چین فینگ ایچ این اے کمپنی کے چیئرمین ہیں جس کے اندر ایوی ایشن سے لے کر ریئل اسٹیٹ اور فائنانشیئل سروسز کی کئی کمپنیاں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی بدھ تعلیمات ان کی کمپنی کے کلچر کو سہارا دیتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کامیاب کمپنی کے لیے مذہب ہی کافی نہیں ہے۔

’لوگوں کو ترغیبات اور منافع ضرور دینا چاہیے تاکہ وہ اپنے لیے اور اپنی کمپنی کی ترقی کے لیے صحیح راستہ اختیار کریں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ بدھ مت تو میری چیز ہے۔ لوگوں کو اپنے مسائل آپ حل کرنے چاہییں۔ ہم سبھی کے لیے ایک کلچر استمال نہیں کر سکتے۔ ہمیں تمام اچھی ثقافتوں کو استعمال کرنے اور انھیں جدید مینیجمنٹ کے طریقوں کے ساتھ یکجا کرنے کی ضرورت ہے۔‘

اسی بارے میں