اقوامِ متحدہ کے ٹریبیونل کو مقدمہ سننے کا اختیار ہے کہ نہیں

سپریٹلے تصویر کے کاپی رائٹ elvis
Image caption چین کے ہمسائے الزام لگاتے ہیں کہ چین سپریٹلے جزائر پر تیزی سے تعمیراتی کام کر رہا ہے

اقوامِ متحدہ کا ایک ٹریبیونل اس بات پر سوچ بچار کر رہا ہے کہ اسے بحیرۂ جنوبی چین پر علاقائی دعوؤں پر قانونی مقدمہ سننے کا اختیار ہے یا نہیں۔

2013 میں فلپائن نے ثالثی کے لیے مستقل عدالت سے درخواست کی تھی کہ وہ اس متنازع علاقے میں چین کے سمندری دعووں کو مسترد کر دے۔

چین تقریباً تمام بحیرۂ جنوبی چین پر ملکیت دعویٰ کرتا ہے جس کی وجہ سے اکثر ہمسائے اس سے ناراض ہیں۔

چین کہتا ہے کہ اس چیلنج کو سننا ٹریبیونل کے اختیار میں نہیں ہے۔

فلپائن نے ٹریبیونل کی کارروائی میں شرکت کے لیے ایک اعلیٰ ٹیم بھیجی ہے۔ ٹریبیونل کی کارروائی 13 جولائی تک چلے گی۔ چین ثالثی میں حصہ نہیں لے رہا۔

35 لاکھ مربع کلومیٹر کے اس علاقے پر ویتنام، تائیوان، ملائشیا، برونائی اور انڈونیشیا بھی دعویٰ کرتے ہیں جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ معدنیات سے مالا مال ہے۔

فلپائن کا چین کے ساتھ خصوصاً سکاربرو شوئل اور سپریٹلے پر جھگڑا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption گذشتہ ماہ منیلا میں چین کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے

اس کا کہنا ہے کہ چین کی نو ڈیشوں والی لائن، جو وہ علاقائی دعووں کے استعمال کرتا ہے، اقوامِ متحدہ کے کنونشن کے سمندری قانون کے منافی ہے جس پر دونوں ممالک نے دستخط کیے ہیں۔ فلپائن چاہتا ہے کہ ٹریبیونل اسے ناجائز قرار دے۔

حالیہ مہینوں میں چین نے سمندر کی ساحل کے ساتھ چٹانوں پر بحالیِ اراضی کا کام شروع کیا ہوا تھا اور عمارتیں بنائی تھیں جس کی وجہ سے امریکہ کو کہنا پڑا تھا کہ چین وہاں اپنا کام روک دے۔

سیٹلائیٹ سے لی جانے والی تصاویر کے مطابق چین سپریٹلے جزیروں میں فیئری کراس ریف کے علاقے میں زمین حاصل کر کے ایک رن وے بنا رہا ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ وہ اس متنازع علاقے پر اپنا حق استعمال کرتے ہوئے قانونی طریقے سے اپنا کام کر رہا ہے۔

اسی بارے میں