امریکی فوج میں کمی کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دس ہزار امریکی فوجی اب بھی افغانستان میں موجود ہیں

امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکی فوج اگلے دو برس میں فوج سے چالیس ہزار فوجیوں کی کمی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

اخراجات کو کم کرنے کی اس کوشش میں سترہ ہزار سویلین ملازمین کو بھی فارغ کر دیا جائے گا۔

اس منصوبے کے مطابق امریکی فوج میں فوجیوں کی تعداد سنہ 2017 تک ساڑھے چار لاکھ رہ جائے گی۔

افغانستان اور عراق میں فوجی کارروائی کے عروج پر سنہ 2012 میں امریکی فوج میں فوجیوں کی کل تعداد پانچ لاکھ ستر ہزار تھی۔

امریکی جریدے یوایس ٹوڈے کے مطابق فوج کو مزید تیس ہزار فوجیوں کو کم کرنا پڑ سکتا ہے اگر مزید بحٹ کٹوتیاں لاگو ہو جاتی ہیں۔

افغانستان سے امریکی فوجیوں کے مکمل انخلا کو سنہ 2016 تک موخر کرنے کے بعد تقریباً دس ہزار امریکی فوجی وہاں موجود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنہ 1941 میں دوسری جنگ عظیم میں شمولیت کے بعد دو لاکھ ستر ہزار فوجی بھرتی کیے گئے

عراق سے سنہ 2012 میں صدر براک اوباما کی طرف سے عسکری کارروائیاں ختم کرنے کے اعلان کے بعد تمام امریکی فوجیوں کو واپس بلا لیا گیا تھا۔

لیکن اب عراق میں 3500 امریکی فوجی اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہنے والے گروہ کے خلاف کارروائیوں میں عراقی فوج کو مدد اور مشورہ فراہم کرنے کے لیے موجود ہیں۔

فوجیوں میں کمی کے منصوبے پر عملدرآمد کے بعد امریکی فوجیوں کی کل تعداد سنہ 1940 کے بعد سب سے کم سطح پر ہوگی۔ دوسری جنگ عظیم میں شامل ہونے کے بعد امریکہ نے دو لاکھ ستر ہزار فوجی بھرتی کیے تھا۔

امریکہ پر گیارہ ستمبر 2001 ایک کے حملوں سے قبل امریکی فوج کی کل تعداد چار لاکھ اسی ہزار تھی۔