برطانیہ:’لاکھ مسلمان بغیر رجسٹرڈ شادی کے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption برطانیہ میں اسلامی شادیوں کی تعداد کا کوئی سرکاری ریکارڈ نہیں ہے

ایک برطانوی اخبار نے حالیہ دنوں میں اپنی ایک شہ سرخی میں دعویٰ کیا تھا کہ ایک لاکھ مسلمان جوڑوں نے اپنی شادیاں رجسٹر نہیں کروائی ہیں۔

ان شادیوں کے ناکام ہونے کی صورت میں جوڑوں کو خاص طور پر خواتین اور ان کے بچوں کو کوئی قانونی تحفظ نہیں ملتا۔ پھر لوگ اس طرح کی شادیاں کیوں کرتے ہیں؟

بی بی سی کے سوشل افیئرز کے نامہ نگار جان میک مینس نے ان اعداد و شمار کے پیچھے حقائق جاننے کی کوشش کی ہے۔

ایک لاکھ جوڑوں کا مطلب ہے کہ دو لاکھ افراد اسلامی شادی کے نظام کے تحت زندگی گزار رہے ہیں، مگر ان ایک لاکھ جوڑوں نے برطانوی حکام کے پاس اپنی شادی کی رجسٹریشن نہیں کروائی۔

برطانیہ میں اسلامی شادیوں کی تعداد کا کوئی سرکاری ریکارڈ نہیں ہے۔

ان جوڑوں نے بھی متعدد دوسرے افراد کی طرح اپنی مذہبی رسومات کی پیروی کی تھی لیکن دوسرے مذاہب میں اور ان میں فرق ہے۔

دیگر مذاہب مثلاً مورمون اور ہندوؤں کی طرح یہ جوڑے بھی اپنی شادیوں کی قانونی شناخت کروانے کے لیے کسی طرح کے قانونی مرحلے سے نہیں گزرتے۔

کیا ایک لاکھ جوڑوں کی تعداد میں کوئی حقیقت بھی ہے؟

یہ تعداد رجسٹر اوور میرج (آر او ایم) کی بانی مہم آئینہ خان نامی ایک خاتون وکیل کی طرف سے سامنے آئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں 27 لاکھ مسلمان ہیں جن کی بڑی تعداد نوجوان اور شادی کی عمر کو پہنچ چکی ہیں۔

انھوں نے کہا ’لوگوں سے بات چیت سے مجھے اندازہ ہوا ہے کہ برطانیہ میں ممکنہ طور پر لاکھوں اسلامی شادیاں کی جاتی ہیں۔‘

انھوں نے تسلیم کیا کہ اس تعداد کو ثابت کرنے کے لیے کوئی شماریاتی ثبوت نہیں ہے کیونکہ لوگ مذہبی شادیوں کا ریکارڈ رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

مس خان نے آر او ایم نامی تحریک کی بنیاد اس وجہ سے رکھی کیونکہ انھیں کام کرنے کے دوران بڑی تعداد میں ایسی خواتین ملیں جو علیحدگی کے بعد مالی طور پر زیادہ برے حالات کا شکار تھیں۔

ان میں سے کچھ کا خیال تھا کہ انھیں تحفظ حاصل ہے تاہم ایک مذہی شادی جسے رجسٹر نہ کیا گیا ہو جوڑوں کے لیے ایسی ہی ہے جیسے مرد عورت کا بغیر نکاح اکٹھے رہنا۔

آئینہ خان کا کہنا ہے کہ ایسی خواتین خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں اور ان کا گھر داؤ میں لگ جاتا ہے۔

پاکستان اور دوسرے مسلم ملکوں میں مذہبی شادیوں یعنی ’نکاح‘ کو قانون کے تحت لازماً رجسٹر کیا جاتا ہے۔ تاہم برطانیہ کی مسلمان خواتین نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والی شائستہ گوہر کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے مسلمان اپنے اپنے ملکوں کی بعض چیزوں پر عمل کرتے ہیں اور بعض کو چھوڑ دیتے ہیں۔

مس شائستہ متعدد ایسی خواتین کو قانونی مدد فراہم کرتی ہیں جن کی شادیاں ناکام ہو جاتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ میں نے آج ایک ایسی خاتون کو دیکھا جن کی شادی ناکام ہوئی اور ان کے پاس کچھ نہیں تھا۔

انھوں نے خواتین سے کہا کہ وہ اپنی شادی کی رجسٹریشن کروائیں تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسی خواتین پر ان کے شوہر اور خاندن والے اکثر شادی رجسٹر نہ کروانے پر دباؤ ڈالتے ہیں۔

کچھ خواتین اس بات کو محسوس کرتی ہیں اور اپنی شادی کی رجسٹریشن پر اصرار کرتی ہیں جبکہ دوسری خواتین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی شادی کو بعد میں رجسٹر کروا لیں گی۔

شائشتہ گوہر کا کہنا ہے کہ اس کا بہترین حل یہی ہے کہ شادی کے رجسٹریشن کے عمل کو لازمی قرار دیا جائے۔