چلی میں بھنگ کی کاشت کی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption نئے قانون کے تحت چلی کے ہر گھر کو زیادہ سے زیادہ چھ پودے لگانے کی اجازت ہوگي

چلی کی پارلیمان نے ایک بل منظور کیا ہے جس کے تحت وہاں کے باشندوں کو چھوٹے پیمانے پر بھنگ کی کاشت کی اجازت ہوگی۔

یہ بل ملک کے ایوان زیریں نے منظور کیا ہے جس کے تحت طبی، تفریحی یا روحانی استعمال کے لیے چھوٹے پیمانے پر بھنگ کی کاشت کی اجازت ہوگی۔

اس کے تحت چلی کے ہر گھر کو زیادہ سے زیادہ چھ پودے لگانے کی اجازت ہوگي۔

اب تک بھنگ کا پودا لگانا، اس کا فروخت کرنا اور اس کے نقل و حمل پر پابندی تھی اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو زیادہ سے زیادہ 15 سال تک کی سزا ہو سکتی تھی۔

یہ نیا بل پہلے کمیشن برائے صحت کے پاس جائے گا پھر سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کئی مقنن نے متنبہ کیا ہے کہ اس سے ملک میں منشیات کے استعمال کو تقویت ملے گی

ایوان زیریں کے اراکین نے اس بل کو واضح اکثریت 39 کے مقابلے 68 ووٹوں سے منظور کیا ہے۔

بہر حال کئی قانون سازوں (اراکین پارلیمان) نے اس نتیجے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے منشیات کے استعمال کو تقویت ملے گي۔

چلی کی ایک میونسپلٹی نے اکتوبر میں پہلی بار حکومت کے ایک آزمائشی پروگرام کے تحت طبی استعمال کے لیے بھنگ کے پودے لگائے۔

اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو پھر اس کا تفریحی استعمال مجرمانہ عمل نہیں رہ جائے گا۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں بہت سے ممالک نے طبی یا ذاتی استعمال کے لیے بھنگ کی کاشت میں نرمی کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption واشنگٹن اور کولوریڈو میں اس کے ذاتی استعمال کی اجازت ہے

امریکہ کی کم از کم 20 ریاستوں میں طبی استعمال کے لیے بھنگ کی بعض اقسام اگانے کی اجازت ہے جبکہ کولوریڈو اور واشنگٹن میں ذاتی استعمال کے لیے اس کی اجازت ہے۔

یوروگوئے پہلا ملک ہے جس نے میری جوانا (بھنگ، چرس) کا قانونی بازار سنہ 2013 میں قائم کیا اور رواں سال کے اوائل میں جمیکا نے اس کے ذاتی استعمال کو غیر مجرمانہ عمل قرار دیا۔

اسی بارے میں