یونان کے پاس نئی تجاویز کے لیے چندگھنٹے ہی باقی

یونانی وزیرِ اعظم تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یونانی وزیرِ اعظم ایتھنز واپس آ کر اپنے وزرا اور اقتصادی ماہرین سے صلاح مشورے کر رہے ہیں

یورو زون سے ممکنہ طور پر نکالے جانے سے بچنے اور نیا قرض لینے کے لیے قرض دہندگان کے سامنے نئی تجاویز رکھنے کے لیے یونان کو دی گئی مہلت جمعرات کو ختم ہو رہی ہے۔

یونانی وزیر اعظم ایلکسس تسیپراس نے کہا ہے کہ اگلے چند گھنٹے اہم ہیں۔

یورو زون کے وزرائے خارجہ نئی تجاویز پر سنیچر کو اور یورپی یونین کے کل رکنی اجلاس میں اتوار کو غور کریں گے۔ اتوار کو یورپی یونین کے 28 ملکوں کا سربراہی اجلاس ہو رہا ہے۔

دریں اثنا یونان کی حکومت نے بینکوں کی بندش میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور کیش مشینوں سے پیسے نکلوانے کی یومیہ حد 60 یورو کو سوموار تک بڑھا دیا ہے۔

یہ پابندیاں 28 جون کو اس وقت لگائی گئی تھیں جبکہ کریڈیٹرز کے ساتھ قرض کے مذاکرات میں تعطل پیدا ہونے کی وجہ سے لوگوں نے تیزی سے بینکوں سے پیسہ نکلوانا شروع کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یونان نے بینکوں سے پیسہ نکلوانے کی بندش برقرار رکھی ہے

یونان کی بینک ایسوسی ایشن کی سربراہ لوئکا کاٹسیلی نے جمعرات کو کہا کہ کیش مشنیوں میں اتنی رقم موجود ہے کہ لوگ سوموار تک پیسے نکال سکتے ہیں۔

ایلکسس تسیپراس برسلز میں مذاکرات اور یورپی پارلیمان سے خطاب کے بعد بدھ کے رات ایتھنز واپس پہنچے۔

وہ اب اپنی کابینہ کے وزرا اور اقتصادی ماہرین کے ساتھ مل کر نئی تجاویز کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔

انھوں نے بدھ کی شام کہا تھا کہ ’میرے خیال میں ہم پہلے سے متفقہ ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے ہی آگے بڑھ رہے ہیں اور آنے والے گھنٹے اہم ہوں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یورپی اتحاد کے وزرا کا برسلز میں سات جولائی کو ہنگامی اجلاس ہوا تھا

انھوں نے جمعرات کے اختتام تک منصفانہ اور قابلِ عمل حل کے لیے ٹھوس نئی تجاویز اور قابلِ اعتبار اصلاحات جمع کرانے کا وعدہ کیا۔

یونان چاہتا ہے کہ اس کے قرض کی نئے سرے سے شرائط طے کی جائیں اور بدھ کو اس نے رسمی طور پر یوروپیئن سٹیبیلیٹی میکینزم کے فنڈ سے قرض لینے کے لیے ایک درخواست بھی دی ہے۔

اس کے بدلے میں اس نے کہا ہے کہ وہ سوموار سے نئے پینشن اور ٹیکس کے اقدامات کرے گا۔

فرانس کے وزیرِ اعظم مینوئل والس نے کہا ہے یہ درست سمت کی طرف قدم ہے۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی کرسٹین لاگارڈ نے بدھ کو تسلیم کیا تھا کہ یونان کے قرض کو از سرِ نو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا: ’یونان کو بہت شدید بحران کی صورتِ حال کا سامنا ہے جسے سنجیدگی سے اور بلا توقف حل کرنا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پارلیمان میں وزیرِ اعظم کا پرجوش خیر مقدم کیا گیا

یورپین یونین کے اکنامک کمشنر پیئر ماسکوویسی نے بھی فرانسیسی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یونان کے ساتھ معاہدہ ناگزیر ہے اور یورو زون سے یونان کے نکلنے کو ہر ممکن طریقے سے روکنا چاہیے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’فیصلہ اب یونان کے ہاتھ میں ہے۔‘

پیئر ماسکوویسی کے خیال میں یونانی حکومت اب بھی یورو زون میں رہنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یورو زون جامع، قابل اعتماد، مکمل اور حقیقی اصلاحات دیکھنے کا منتظر ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ بہت مشکل ہے لیکن معاہدہ اب بھی ممکن ہے اور پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔ یونان کا یورو زون سے نکل جانا ایک بہت بڑی ناکامی اور اجتماعی غلطی ہو گی۔ ہم سب اسے روکنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔‘

برسلز میں ہنگامی اجلاس کے بعد یورپیئن کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک کا کہنا تھا کہ ’یہ یورو زون کی تاریخ کا سب سے نازک لمحہ ہے اور حتمی مہلت اس ہفتے کے آخر تک ختم ہو جائے گی۔‘

اسی بارے میں