انڈونیشامیں آتش فشاں کی راکھ سے پروازیں معطل

Image caption ہزاروں سیاح اس بندش سے مشکلات کا شکار ہیں

انڈونیشیا میں سیاحوں کی مقبول ترین جگہ بالی سمیت تین شہروں کے ہوائی اڈے آتش فشاں کے راکھ اگلنے سے ہفتے تک بند رہیں گے۔

مشرقی جاوا میں ماونٹ رونگ گذشتہ ایک ہفتے سے راکھ اگل رہا ہے جس سے ہوائی جہازوں کے تحفظ کے بارے میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

بالی کے ہوائی اڈے کو جو کہ آسٹریلیا سے آنے والے سیاحوں کی مقول ترین منزل ہے جمعرات کو بند کر دیا گیا تھا جس سے بہت سے مسافر مشکلات کا شکار ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مشرقی جاوا میں دو اور چھوٹے ہوائی اڈے بھی بند رہیں گے۔

اس سے قبل جاری ہونے والی ہدایات میں کہا گیا تھا کہ ہوائی اڈے جعمہ تک بند رکھے جائیں گے۔

بین الاقوامی فضائی کمپنیوں جٹ سٹار اور ورجن نے آسٹریلیا اور بالی کے درمیان تمام پروازیں معطل کر دی ہیں۔

انڈونیشیا کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے اہلکار جے اے براٹا نے کہا ہے کہ ہوائی اڈوں کے دوبارہ کھولنے کا دار و مدار ماونٹ رونگ کے اوپر ہے۔ بالی کے ہوائی اڈے سے یہ آتش فشاں ایک سو بیس کلو میٹر دور ہے۔

اس آتش فشاں سے ایک ہفتے سے راکھ کے بادل اٹھ رہے ہیں۔ یہ آتش فشاں پھٹا نہیں ہے صرف اس سے مسلسل راکھ خارج ہو رہی ہے اور کیونکہ یہ بہت بلند ہے اس لیے ہوائی جہازوں کو اس سے خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ جدید مسافر طیاروں کے انجن اس قدر ہوا لیتے ہیں کہ راکھ کے مادہ گیس میں تبدیل ہو جانے کا اندیشہ ہے۔

جکارتہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈے ایک ایسے وقت بند ہوئے ہیں جب ان جزائر پر مقامی اور بین الاقوامی سیاح سکولوں میں موسم گرما کی چھٹیوں کے دوران بڑی تعداد میں آتے ہیں۔

مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان کے آخر میں بھی بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھروں کو جاتے ہیں اور ہوائی اڈوں کی بندش سے بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔