جوہری مذاکرات: ایران کا عالمی طاقتوں پر موقف تبدیل کرنے کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر حتمی ڈیل طے پانے کے بعد امریکی کانگریس اس کا 60 روز تک جائزہ لے گی

ایران نے عالمی طاقتوں پر اس کے جوہری پروگرام سے متعلق طویل مذاکرات میں اپنا موقف تبدیل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

واضح رہے کہ چھ عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ویانا میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔

اصل ڈیڈ لائن کب؟

’حتمی ڈیل کے کبھی اتنے قریب نہیں تھے‘

ایران نے وزیرخارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ جوہری پروگرام پر کوئی معاہدہ طے نہ پانے کے بعد فریقین کے درمیان مذاکرات اختتام ہفتہ تک جاری رہ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ’متعدد ممالک‘ نے اپنا موقف تبدیل کیا ہے جس سے مسئلے کے حل میں مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔

دوسری جانب ان کے امریکی ہم منصب جان کیری کا کہنا تھا کہ ان کے ملک اور دیگر عالمی طاقتوں کو معاہدے تک پہنچنے کے لیے کوئی جلدی نہیں، تاہم انھوں نے خبردار بھی کیا تھا کہ مذاکرات میں شامل چھ عالمی طاقتیں اس کے لیے لامحدود وقت تک انتظار نہیں کریں گی۔

ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کا جمعرات کی شب کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے والے چھ عالمی طاقتوں کے ممبران ’بے جا مطالبات‘ کر رہے ہیں۔

انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’ہم سخت محنت کر رہے ہیں، لیکن یہ کام کرنے کے لیے عجلت میں نہیں ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ’متعدد ممالک‘ نے اپنا موقف تبدیل کیا ہے

خیال رہے کہ ویانا میں ہونے والے ان مذاکرات کا ایک بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ایران پر عائد عالمی پابندیاں کس رفتار سے ختم کی جائیں گی۔

ڈیڈ لائن سے قبل معاہدہ نہ طے پانے کے بعد اب امریکی کانگریس مستقبل میں ممکنہ طور پر طے پانے والے معاہدے پر جائزہ لینے کے لیے 30 کے بجائے 60 دن صرف کرے گی۔

سرخ لکیریں

مذاکرات کے ایک نئے دور سے قبل ویانا میں صحافیوں سے گفتگو میں جان کیری نے کہا کہ ’ہم یہاں اس یقین کے ساتھ موجود ہیں کہ ہم حقیقی معنوں میں پیش رفت کر رہے ہیں۔‘

مگر اپنے بیان میں انھوں نے یہ بھی وضاحت کر دی کہ ’ہم ہمیشہ کے لیے مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھنے کے لیے نہیں جا رہے۔‘

جان کیری نے یہ بھی کہا کہ دنوں، ہفتوں اور مہینوں کا امتحان نہیں یہ دہائیوں کا امتحان ہے۔

ادھر ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے ٹوئٹر اکانٹ پر پیغام میں لکھا تھا کہ ’میرے الفاظ لکھ لیں، آپ ندی کے وسط سےگھوڑوں کے رخ کو تبدیل نہیں کر سکتے۔‘

Image caption جان کیری نے اعتراف کیا ہے کہ اب بھی بہت سے مشکل امور حل نہیں ہو سکے

چند سینئیر ایرانی حکام نے اس پر بھی ملامت کی کہ اب ایران یہ محسوس کر رہا ہے کہ ان مذاکرات میں شامل ہر ملک کے پاس مختلف سرخ لکیریں ہیں۔

خیال رہے کہ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں جاری مذاکرات میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی جوہری پروگرام پر ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں جن میں گذشتہ منگل کی ڈیڈلائن تک اتفاق رائے نہ ہونے پر ایک ہفتے کی توسیع کر دی گئی تھی۔

ایران کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ایران عالمی طاقتوں سے معاہدے کی صورت پر خود پر عائد اقتصادی پابندیوں کا فوری خاتمہ چاہتا ہے جن کی وجہ سے اُس کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

یہ خیال بھی کیا جاتا ہے کہ ایران اور عالمی طاقتیں اب بھی تین بنیادی امور پر اتفاقِ رائے نہیں کر سکیں۔ ان میں سے ایک تو ایران کی غیر جوہری تنصیبات کی بین الاقوامی معائنہ کاری کا معاملہ ہے اور دوسرا یہ کہ یہ کیسے تصدیق کی جائے گی کہ ایران اپنے وعدے پورے کر رہا ہے۔

ایران یہ بھی چاہتا ہے کہ اقوامِ متحدہ اس پر عائد ہھتیاروں کی خریدو فروخت کی پابندی ہٹا دے لیے تاہم امریکہ ایسا نہیں چاہتا۔

اسی بارے میں